یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب : الاستعاذة من عذاب جهنم وشر المسيح الدجال
باب: جہنم کے عذاب اور مسیح دجال کے شر و فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5507
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، مسیح دجال کے شر و فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اور موت و زندگی کے فتنے کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5507]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ میں مسیح دجال کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں اور زندگی و موت کی آزمائش کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13914) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5507 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5507
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب قبر نیز زندگی اورموت کےفتنے سے پناہ مانگنا مشروع ہے۔ عذاب قبر کا برحق ہونا بھی اس حدیث سے ثابت ہوا اور برزخی زندگی کی طرف اشارہ بھی ہوتا ہے اگرچہ وہ ہمارے شعور اورفہم سے بالاتر ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی بھی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ نے یہ خبر دی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح دجال آئے گا۔ اورامت کو اس کے فتنے سےخبردار کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے شراورفتنے سے بچنے کی دعائیں بھی سکھلائی ہیں۔
(1) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب قبر نیز زندگی اورموت کےفتنے سے پناہ مانگنا مشروع ہے۔ عذاب قبر کا برحق ہونا بھی اس حدیث سے ثابت ہوا اور برزخی زندگی کی طرف اشارہ بھی ہوتا ہے اگرچہ وہ ہمارے شعور اورفہم سے بالاتر ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی بھی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ نے یہ خبر دی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح دجال آئے گا۔ اورامت کو اس کے فتنے سےخبردار کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے شراورفتنے سے بچنے کی دعائیں بھی سکھلائی ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5507]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5507 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي