سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب : الاستعاذة من الخسف
باب: زمین میں دھنس جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5532
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ" , فَذَكَرَ الدُّعَاءَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي" , يَعْنِي بِذَلِكَ الْخَسْفَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم» ”اے اللہ!“ پھر انہوں نے دعا کا ذکر کیا جس کے آخر میں یہ کہا: «أعوذ بك أن أغتال من تحتي» ”میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں نیچے کی طرف سے کسی مصیبت میں پھنس جاؤں“ اس سے آپ (زمین میں) دھنس جانا مراد لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5532]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ!“ پھر راوی نے دعا ذکر کی جس کے آخر میں یہ لفظ ہیں: ”میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جائے۔“ ان الفاظ سے آپ کا مقصد دھنسائے جانے سے پناہ طلب کرنا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 5532 in Urdu
جبير بن أبي سليمان القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي