یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب : ذكر الأخبار التي اعتل بها من أباح شراب المسكر
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5686
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ يَذْكُرُهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ". ابْنُ شُبْرُمَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے، اور دوسرے مشروبات اس وقت حرام ہیں جب نشہ آ جائے۔ ابن شبرمہ نے اسے عبداللہ بن شداد سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5686]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ خمر (شراب) تو قلیل بھی حرام ہے اور کثیر بھی جبکہ دوسرے مشروبات سے نشہ آور (حرام ہیں)۔ ابن شبرمہ نے یہ حدیث عبداللہ بن شداد سے نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 5789)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5687-5689) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5686 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5686
اردو حاشہ:
(1) اس روایت کا مذکورہ ترجمہ ان لوگوں کی رعایت سے کیا گیا ہے جو اس سے مندرجہ بالا استدلال کرتے ہیں ورنہ پھر اس کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے شراب قلیل اور کثیر حرام ہے نیز ہر نشہ آور مشروب (بھی حرام ہے) بلکہ یہ ترجمہ ترکیبی بندش کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہے خصوصاً جب کہ یہ ترجمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی دیگر روایات کے مطابق ہے۔ کیونکہ وہ نشہ آور مشروب تو ایک طرف رہا نشے کے امکان والے برتنوں تک کے قائل نہیں جیسا کہ پیچھے ایک روایات گزرچکی ہیں اور آئندہ بھی مذکور ہیں۔
(2) ”نہیں سنی“ یعنی یہ روایت منقطع ہے اور منقطع روایت ضعیف ہوتی ہے۔
(1) اس روایت کا مذکورہ ترجمہ ان لوگوں کی رعایت سے کیا گیا ہے جو اس سے مندرجہ بالا استدلال کرتے ہیں ورنہ پھر اس کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے شراب قلیل اور کثیر حرام ہے نیز ہر نشہ آور مشروب (بھی حرام ہے) بلکہ یہ ترجمہ ترکیبی بندش کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہے خصوصاً جب کہ یہ ترجمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی دیگر روایات کے مطابق ہے۔ کیونکہ وہ نشہ آور مشروب تو ایک طرف رہا نشے کے امکان والے برتنوں تک کے قائل نہیں جیسا کہ پیچھے ایک روایات گزرچکی ہیں اور آئندہ بھی مذکور ہیں۔
(2) ”نہیں سنی“ یعنی یہ روایت منقطع ہے اور منقطع روایت ضعیف ہوتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5686]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5686 in Urdu
عبد الله بن شداد الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي