سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب : الحث على ترك الشبهات
باب: شبہ والی چیزیں چھوڑنے کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 5714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ , عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْديِّ , قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: حَفِظْتُ مِنْهُ:" دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ".
ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ تو انہوں نے کہا: مجھے آپ کی یہ بات یاد ہے: جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور وہ کرو جس میں شک نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5714]
حضرت ابوالحوراء سعدی رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فرمان یاد رکھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد رکھا ہے: «دَعْ مَا يَرِيْبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيْبُكَ» ”مشکوک اور مشتبہ چیز کو چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو مشتبہ نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/القیامة 60 (2518)، (تحفة الأشراف: 3405)، مسند احمد (1/200) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2518
| دع ما يريبك إلى ما لا يريبك الصدق طمأنينة وإن الكذب ريبة |
سنن النسائى الصغرى |
5714
| دع ما يريبك إلى ما لا يريبك |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5714 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5714
اردو حاشہ:
اور نشہ آور نبیذ وغیرہ سے بڑھ کر کون سی چیز مشتبہ ہوسکتی ہے؟
اور نشہ آور نبیذ وغیرہ سے بڑھ کر کون سی چیز مشتبہ ہوسکتی ہے؟
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5714]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2518
باب:۔۔۔
ابوالحوراء شیبان سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی الله عنہما سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا چیز یاد کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد کیا ہے کہ ”اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے، اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے“ ۱؎، اور اس حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2518]
ابوالحوراء شیبان سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی الله عنہما سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا چیز یاد کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد کیا ہے کہ ”اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے، اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے“ ۱؎، اور اس حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2518]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ شک و شبہ والی چیزوں سے اجتناب کرو،
اور جس پر قلبی اطمینان ہو،
اس پرعمل کرو،
سچائی کو اپنا شعار بناؤ کیوں کہ اس سے قلبی اطمینان اور سکون حاصل ہوتاہے،
جب کہ جھوٹ سے دل بے قرار اور پریشان رہتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ شک و شبہ والی چیزوں سے اجتناب کرو،
اور جس پر قلبی اطمینان ہو،
اس پرعمل کرو،
سچائی کو اپنا شعار بناؤ کیوں کہ اس سے قلبی اطمینان اور سکون حاصل ہوتاہے،
جب کہ جھوٹ سے دل بے قرار اور پریشان رہتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2518]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5714 in Urdu
ربيعة بن شيبان السعدي ← الحسن بن علي الهاشمي