🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : الرخصة في الصلاة قبل المغرب
باب: مغرب سے پہلے نماز کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 583
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُفَيْلٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ قَامَ لِيَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: انْظُرْ إِلَى هَذَا، أَيَّ صَلَاةٍ يُصَلِّي؟ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَرَآهُ، فَقَالَ:" هَذِهِ صَلَاةٌ كُنَّا نُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوالخیر کہتے ہیں کہ ابوتمیم جیشانی مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں دیکھئیے! یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھ کر بولے: یہ وہی نماز ہے جسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 583]
ابوالخیر سے روایت ہے کہ ابوتمیم جیشانی مغرب (کی نماز) سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے کے لیے اٹھے۔ میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں دیکھیے یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ انہوں (عقبہ) نے ان کی طرف توجہ فرمائی تو انہیں (نماز پڑھتے) دیکھا تو انہوں نے فرمایا: ہم یہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 35 (1184) نحوہ، (تحفة الأشراف: 9961)، مسند احمد 4/ 155 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنا جائز ہی نہیں بلکہ مستحب ہے، صحیح بخاری (کے مذکورہ باب) میں عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو «صلوا قبل المغرب» حکم کے صیغے کے ساتھ وارد ہے، یعنی مغرب سے پہلے (نفل) پڑھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥مرثد بن عبد الله اليزني، أبو الخير
Newمرثد بن عبد الله اليزني ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← مرثد بن عبد الله اليزني
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥بكر بن مضر القرشي، أبو محمد، أبو عبد الملك
Newبكر بن مضر القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم العتقي، أبو عبد الله
Newعبد الرحمن بن القاسم العتقي ← بكر بن مضر القرشي
ثقة
👤←👥سعيد بن تليد الرعيني، أبو عثمان
Newسعيد بن تليد الرعيني ← عبد الرحمن بن القاسم العتقي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن عثمان النفيلي، أبو محمد
Newعلي بن عثمان النفيلي ← سعيد بن تليد الرعيني
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 583 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 583
583 ۔ اردو حاشیہ:
➊ان دورکعتوں کو نماز مغرب سے پہلے والی سنتیں کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی رغبت دلایا کرتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انہیں کثرت سے پڑھا کرتے تھے مگر وقت کم ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ متروک ہو گئیں، اس لیے ابوالخیر کو تعجب ہوا۔ اللہ تعالیٰ تروتازہ رکھے محدثین اور اہل حدیث کو جو متروک سنتوں کو زندہ کرتے ہیں۔ احناف بلاوجہ ان سنتوں کے خلاف ہیں کہ ان کے پڑھنے سے نماز مؤخر ہو جائے گی، حالانکہ دو ہلکی رکعتوں سے کیا فرق پڑتا ہے؟ بلکہ تکثیر جماعت کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: «بین کل اذانین صلاۃ» [صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 624، وصحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 838]
ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے۔ اور فرمایا: «صلوا قبل صلاة المغرب» [صحیح البخاري، التھجد، حدیث: 1183]
نماز مغرب سے پہلے نماز پڑھو۔ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے اور کیا چاہیے؟ مزیدتفصیل کے لیے اسی کتاب کا ابتدائیہ دیکھیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 583]

Sunan an-Nasa'i Hadith 583 in Urdu