🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب : الوقت الذي يجمع فيه المسافر بين المغرب والعشاء
باب: مسافر کے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 598
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، قال: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ قَارَوَنْدَا، قال: سَأَلْنَا سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلَاة فِي السِّفْر، فَقُلْنَا: أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا بِجَمْعٍ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: كَانَتْ عِنْدَهُ صَفِيَّةُ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ: أَنِّي فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ، فَرَكِبَ وَأَنَا مَعَهُ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى حَانَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ: الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ نَزَلَ، فَقَالَ لِلْمُؤَذِّنِ: أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ مِنَ الظُّهْرِ فَأَقِمْ مَكَانَكَ، فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَهُ فَصَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ: الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: كَفِعْلِكَ الْأَوَّلِ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا اشْتَبَكَتِ النُّجُومُ نَزَلَ، فَقَالَ: أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَهُ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ أَمْرٌ يَخْشَى فَوْتَهُ فَلْيُصَلِّ هَذِهِ الصَّلَاةَ".
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے، پھر چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ تھیں، انہوں نے انہیں کہلوا بھیجا کہ میں دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں ۱؎ (اس لیے آپ آ کر آخری ملاقات کر لیجئے)، تو وہ سوار ہوئے، اور میں اس ان کے ساتھ تھا، وہ تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا، تو ان سے مؤذن نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئے، لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آ گیا، تو اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، اور جب میں ظہر پڑھ لوں تو اپنی جگہ پر (دوبارہ) اقامت کہنا، چنانچہ اس نے اقامت کہی، تو انہوں نے ظہر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر تو (مؤذن نے) اپنی اسی جگہ پر پھر اقامت کہی، تو انہوں نے عصر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن نماز پڑھ لیجئے، تو انہوں نے کہا جیسے پہلے کیا تھا، اسی طرح کرو اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے تو اترے، اور کہنے لگے: اقامت کہو، اور جب سلام پھیر چکوں تو دوبارہ اقامت کہنا، پھر انہوں نے مغرب کی تین رکعت پڑھائی، پھر اپنی اسی جگہ پر اس نے پھر تکبیر کہی تو انہوں نے عشاء پڑھائی، اور اپنے چہرہ کے سامنے ایک ہی سلام پھیرا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 598]
حضرت کثیر بن قاروندا رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم نے حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں نمازوں کو جمع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے۔ پھر وہ چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ بنت ابوعبید رحمہا اللہ تھیں۔ انہوں نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میں دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں، چنانچہ آپ سوار ہوئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ وہ بہت تیزی سے چلے حتیٰ کہ نماز کا وقت آ گیا، مؤذن نے آپ سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! نماز پڑھ لیجیے۔ آپ چلتے رہے حتیٰ کہ جب دو نمازوں کا درمیانی وقت آ گیا تو آپ اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، جب میں ظہر کی نماز سے سلام پھیروں تو اسی جگہ اقامت کہہ دینا۔ اس نے اقامت کہی تو آپ نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھیں، پھر سلام پھیرا، پھر اسی جگہ عصر کی اقامت کہلوائی اور عصر کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر سوار ہو گئے اور خوب تیز چلے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا۔ مؤذن نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! نماز پڑھیے۔ آپ نے فرمایا: جس طرح تو نے پہلے کیا ہے اسی طرح کرنا۔ پھر آپ چلتے رہے حتیٰ کہ ستارے گھنے ہو گئے تو اترے اور فرمایا: اقامت کہہ، پھر جب میں (نماز مغرب سے) سلام پھیروں تو پھر تکبیر کہنا۔ اس نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، پھر اس نے اسی جگہ اقامت کہی تو آپ نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر آپ نے سامنے کی طرف ایک دفعہ سلام کہا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ایسا کام پڑ جائے جس کے ضائع ہونے کا اسے خطرہ ہو تو وہ اس طرح نماز پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 589 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (589) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥كثير بن قاروندا الكوفي، أبو إسماعيل
Newكثير بن قاروندا الكوفي ← سالم بن عبد الله العدوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← كثير بن قاروندا الكوفي
ثقة ثبت
👤←👥عبدة بن عبد الرحيم المروزي، أبو سعيد
Newعبدة بن عبد الرحيم المروزي ← النضر بن شميل المازني
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3000
إذا جد به السير أخر المغرب وجمع بينهما
صحيح البخاري
1109
إذا أعجله السير في السفر يؤخر صلاة المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء
صحيح البخاري
1805
إذا جد به السير أخر المغرب وجمع بينهما
صحيح البخاري
1092
إذا أعجله السير يؤخر المغرب فيصليها ثلاثا ثم يسلم ثم قلما يلبث حتى يقيم العشاء فيصليها ركعتين ثم يسلم ولا يسبح بعد العشاء حتى يقوم من جوف الليل
صحيح مسلم
1622
إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء
صحيح مسلم
1623
يجمع بين المغرب والعشاء إذا جد به السير
صحيح مسلم
3112
صلى المغرب بجمع والعشاء بإقامة
صحيح مسلم
1621
إذا عجل به السير جمع بين المغرب والعشاء
صحيح مسلم
1624
إذا أعجله السير في السفر يؤخر صلاة المغرب حتى يجمع بينها وبين صلاة العشاء
جامع الترمذي
555
استغيث على بعض أهله فجد به السير فأخر المغرب حتى غاب الشفق ثم نزل فجمع بينهما ثم أخبرهم أن رسول الله كان يفعل ذلك إذا جد به السير
سنن أبي داود
1217
إذا جد به السير صلى صلاتي هذه
سنن أبي داود
1913
غدا رسول الله من منى حين صلى الصبح صبيحة يوم عرفة حتى أتى عرفة فنزل بنمرة وهي منزل الإمام الذي ينزل به بعرفة حتى إذا كان عند صلاة الظهر راح رسول الله مهجرا فجمع بين الظهر والعصر ثم خطب الناس ثم راح فوقف على الموقف من عرفة
سنن أبي داود
1209
ما جمع رسول الله بين المغرب والعشاء قط في السفر إلا مرة
سنن أبي داود
1207
إذا عجل به أمر في سفر جمع بين هاتين الصلاتين فسار حتى غاب الشفق فنزل فجمع بينهما
سنن النسائى الصغرى
596
إذا عجل به السير صنع هكذا
سنن النسائى الصغرى
589
إذا حضر أحدكم الأمر الذي يخاف فوته فليصل هذه الصلاة
سنن النسائى الصغرى
598
إذا حضر أحدكم أمر يخشى فوته فليصل هذه الصلاة
سنن النسائى الصغرى
597
صلى وغاب الشفق فصلى العشاء ثم أقبل علينا فقال هكذا كنا نصنع مع رسول الله إذا جد به السير
سنن النسائى الصغرى
600
إذا جد به السير أو حزبه أمر جمع بين المغرب والعشاء
سنن النسائى الصغرى
599
إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
173
إذا عجل به السير يجمع بين المغرب والعشاء
مسندالحميدي
628
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء
مسندالحميدي
697
فلما غاب الشفق نزل فصلى المغرب بنا ثلاثا ثم سلم، وصلى العشاء ركعتين
Sunan an-Nasa'i Hadith 598 in Urdu