سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب : الوقت الذي يجمع فيه المسافر بين المغرب والعشاء
باب: مسافر کے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 598
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، قال: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ قَارَوَنْدَا، قال: سَأَلْنَا سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلَاة فِي السِّفْر، فَقُلْنَا: أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا بِجَمْعٍ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: كَانَتْ عِنْدَهُ صَفِيَّةُ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ: أَنِّي فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ، فَرَكِبَ وَأَنَا مَعَهُ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى حَانَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ: الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ نَزَلَ، فَقَالَ لِلْمُؤَذِّنِ: أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ مِنَ الظُّهْرِ فَأَقِمْ مَكَانَكَ، فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَهُ فَصَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ: الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: كَفِعْلِكَ الْأَوَّلِ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا اشْتَبَكَتِ النُّجُومُ نَزَلَ، فَقَالَ: أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَهُ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ أَمْرٌ يَخْشَى فَوْتَهُ فَلْيُصَلِّ هَذِهِ الصَّلَاةَ".
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے، پھر چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ تھیں، انہوں نے انہیں کہلوا بھیجا کہ میں دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں ۱؎ (اس لیے آپ آ کر آخری ملاقات کر لیجئے)، تو وہ سوار ہوئے، اور میں اس ان کے ساتھ تھا، وہ تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا، تو ان سے مؤذن نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئے، لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آ گیا، تو اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، اور جب میں ظہر پڑھ لوں تو اپنی جگہ پر (دوبارہ) اقامت کہنا، چنانچہ اس نے اقامت کہی، تو انہوں نے ظہر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر تو (مؤذن نے) اپنی اسی جگہ پر پھر اقامت کہی، تو انہوں نے عصر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن نماز پڑھ لیجئے، تو انہوں نے کہا جیسے پہلے کیا تھا، اسی طرح کرو اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے تو اترے، اور کہنے لگے: اقامت کہو، اور جب سلام پھیر چکوں تو دوبارہ اقامت کہنا، پھر انہوں نے مغرب کی تین رکعت پڑھائی، پھر اپنی اسی جگہ پر اس نے پھر تکبیر کہی تو انہوں نے عشاء پڑھائی، اور اپنے چہرہ کے سامنے ایک ہی سلام پھیرا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 598]
حضرت کثیر بن قاروندا رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم نے حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: ”کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں نمازوں کو جمع کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، سوائے مزدلفہ کے۔“ پھر وہ چونکے اور کہنے لگے: ”ان کے نکاح میں صفیہ بنت ابوعبید رحمہا اللہ تھیں۔ انہوں نے آپ کو پیغام بھیجا کہ ”میں دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں“، چنانچہ آپ سوار ہوئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ وہ بہت تیزی سے چلے حتیٰ کہ نماز کا وقت آ گیا، مؤذن نے آپ سے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! نماز پڑھ لیجیے۔“ آپ چلتے رہے حتیٰ کہ جب دو نمازوں کا درمیانی وقت آ گیا تو آپ اترے اور مؤذن سے کہا: ”اقامت کہو، جب میں ظہر کی نماز سے سلام پھیروں تو اسی جگہ اقامت کہہ دینا۔“ اس نے اقامت کہی تو آپ نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھیں، پھر سلام پھیرا، پھر اسی جگہ عصر کی اقامت کہلوائی اور عصر کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر سوار ہو گئے اور خوب تیز چلے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا۔ مؤذن نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! نماز پڑھیے۔“ آپ نے فرمایا: ”جس طرح تو نے پہلے کیا ہے اسی طرح کرنا۔“ پھر آپ چلتے رہے حتیٰ کہ ستارے گھنے ہو گئے تو اترے اور فرمایا: ”اقامت کہہ، پھر جب میں (نماز مغرب سے) سلام پھیروں تو پھر تکبیر کہنا۔“ اس نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، پھر اس نے اسی جگہ اقامت کہی تو آپ نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر آپ نے سامنے کی طرف ایک دفعہ سلام کہا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو ایسا کام پڑ جائے جس کے ضائع ہونے کا اسے خطرہ ہو تو وہ اس طرح نماز پڑھے۔““ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 589 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (589) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3000
| إذا جد به السير أخر المغرب وجمع بينهما |
صحيح البخاري |
1109
| إذا أعجله السير في السفر يؤخر صلاة المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء |
صحيح البخاري |
1805
| إذا جد به السير أخر المغرب وجمع بينهما |
صحيح البخاري |
1092
| إذا أعجله السير يؤخر المغرب فيصليها ثلاثا ثم يسلم ثم قلما يلبث حتى يقيم العشاء فيصليها ركعتين ثم يسلم ولا يسبح بعد العشاء حتى يقوم من جوف الليل |
صحيح مسلم |
1622
| إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء |
صحيح مسلم |
1623
| يجمع بين المغرب والعشاء إذا جد به السير |
صحيح مسلم |
3112
| صلى المغرب بجمع والعشاء بإقامة |
صحيح مسلم |
1621
| إذا عجل به السير جمع بين المغرب والعشاء |
صحيح مسلم |
1624
| إذا أعجله السير في السفر يؤخر صلاة المغرب حتى يجمع بينها وبين صلاة العشاء |
جامع الترمذي |
555
| استغيث على بعض أهله فجد به السير فأخر المغرب حتى غاب الشفق ثم نزل فجمع بينهما ثم أخبرهم أن رسول الله كان يفعل ذلك إذا جد به السير |
سنن أبي داود |
1217
| إذا جد به السير صلى صلاتي هذه |
سنن أبي داود |
1913
| غدا رسول الله من منى حين صلى الصبح صبيحة يوم عرفة حتى أتى عرفة فنزل بنمرة وهي منزل الإمام الذي ينزل به بعرفة حتى إذا كان عند صلاة الظهر راح رسول الله مهجرا فجمع بين الظهر والعصر ثم خطب الناس ثم راح فوقف على الموقف من عرفة |
سنن أبي داود |
1209
| ما جمع رسول الله بين المغرب والعشاء قط في السفر إلا مرة |
سنن أبي داود |
1207
| إذا عجل به أمر في سفر جمع بين هاتين الصلاتين فسار حتى غاب الشفق فنزل فجمع بينهما |
سنن النسائى الصغرى |
596
| إذا عجل به السير صنع هكذا |
سنن النسائى الصغرى |
589
| إذا حضر أحدكم الأمر الذي يخاف فوته فليصل هذه الصلاة |
سنن النسائى الصغرى |
598
| إذا حضر أحدكم أمر يخشى فوته فليصل هذه الصلاة |
سنن النسائى الصغرى |
597
| صلى وغاب الشفق فصلى العشاء ثم أقبل علينا فقال هكذا كنا نصنع مع رسول الله إذا جد به السير |
سنن النسائى الصغرى |
600
| إذا جد به السير أو حزبه أمر جمع بين المغرب والعشاء |
سنن النسائى الصغرى |
599
| إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
173
| إذا عجل به السير يجمع بين المغرب والعشاء |
مسندالحميدي |
628
| رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء |
مسندالحميدي |
697
| فلما غاب الشفق نزل فصلى المغرب بنا ثلاثا ثم سلم، وصلى العشاء ركعتين |
Sunan an-Nasa'i Hadith 598 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي