سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب : فيمن نام عن صلاة
باب: جو شخص نماز سے سو جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 616
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے نمازوں سے اپنے سو جانے کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیند کی حالت میں کوئی تقصیر (کمی) نہیں ہے“، تقصیر (کمی) تو جاگنے میں ہے (کہ جاگتا ہو اور نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وقت گزر جائے)، تو جب تم میں سے کوئی آدمی نماز بھول جائے، یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 616]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ کبھی ہم نماز سے سوئے رہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیند آ جانے میں قصور اور کوتاہی نہیں۔ کوتاہی تو یہ ہے کہ آدمی جاگتا ہوا نماز نہ پڑھے، چنانچہ جب تم میں سے کوئی بھول جائے یا اس سے سویا رہ جائے تو جب اسے یاد آئے (یا جاگے) تو اسی وقت نماز پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 11 (441) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة 16 (177)، (تحفة الأشراف: 12085)، مسند احمد 5/298، 302، 305 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
616
| ليس في النوم تفريط إنما التفريط في اليقظة فإذا نسي أحدكم صلاة أو نام عنها فليصلها إذا ذكرها |
سنن النسائى الصغرى |
617
| ليس في النوم تفريط إنما التفريط فيمن لم يصل الصلاة حتى يجيء وقت الصلاة الأخرى حين ينتبه لها |
جامع الترمذي |
177
| ليس في النوم تفريط إنما التفريط في اليقظة فإذا نسي أحدكم صلاة أو نام عنها فليصلها إذا ذكرها |
سنن أبي داود |
437
| لا تفريط في النوم إنما التفريط في اليقظة فإذا سها أحدكم عن صلاة فليصلها حين يذكرها ومن الغد للوقت |
سنن أبي داود |
441
| ليس في النوم تفريط إنما التفريط في اليقظة أن تؤخر صلاة حتى يدخل وقت أخرى |
Sunan an-Nasa'i Hadith 616 in Urdu
عبد الله بن رباح الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي