🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : هل يؤذنان جميعا أو فرادى
باب: کیا دونوں مؤذن ایک ساتھ اذان دیتے تھے یا یکے بعد دیگرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 641
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُشَيْمٍ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا".
انیسہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب (عبداللہ) ابن ام مکتوم اذان دیں تو کھاؤ پیو، اور جب بلال اذان دیں تو کھانا پینا بند کر دو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15783)، مسند احمد 6/433 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ان بیشتر روایتوں کے خلاف ہے جن میں ہے کہ بلال کی اذان پہلے ہوتی تھی، چنانچہ ابن عبدالبر وغیرہ نے کہا ہے کہ اس روایت میں قلب ہوا ہے، اور صحیح وہی ہے جو بیشتر روایتوں میں ہے، امام بیہقی نے ابن خزیمہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: اگر یہ روایت صحیح ہے تو ممکن ہے ان دونوں کے درمیان باری رہی ہو، تو جب بلال رضی اللہ عنہ کی باری رات میں اذان کہنے کی ہوتی تو وہ رات میں اذان کہتے، اور جب ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی ہوتی تو وہ رات میں کہتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنيسة بنت خبيب الأنصاريةصحابي
👤←👥خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو محمد، أبو الحارث
Newخبيب بن عبد الرحمن الأنصاري ← أنيسة بنت خبيب الأنصارية
ثقة
👤←👥منصور بن زاذان الواسطي، أبو المغيرة
Newمنصور بن زاذان الواسطي ← خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← منصور بن زاذان الواسطي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 641 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 641
641 ۔ اردو حاشیہ: سابقہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بلال پہلی اذان کہتے تھے اور ابن ام مکتوم دوسری۔ اس روایت میں الٹ ہے کہ ابن ام مکتوم پہلی اذان کہتے تھے اور بلال دوسری۔ ممکن ہے کہ وہ آپس میں نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے باری بدلتے رہتے ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابتدا میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان کہتے ہوں اور حضرت عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ دوسری، پھر بعد میں بلال رضی اللہ عنہ کے ذمے دوسری اذان ہو گئی ہو اور عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ذمے پہلی۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک ان کا اصل نام عمرو ہے جبکہ انہوں نے عبداللہ بھ صیغۂ تمریض کے ساتھ بیان کیا ہے۔ دیکھیے: [تقريب التهذيب: 734/1 و 552/2]
جبکہ حافظ ابن عبدالبر وغیرہ نے اس حدیث میں قلب واقع ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ درست روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ کی ہے۔ لیکن یہ دعویٰ درست نہیں بلکہ حدیث صحیح ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: [فتح الباري: 103/2] واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 641]