سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب : الإسراع إلى الصلاة من غير سعى
باب: نماز کے لیے بغیر دوڑے تیز آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 863
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهُمْ حَتَّى يَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْرِعُ إِلَى الْمَغْرِبِ مَرَرْنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ:" أُفٍّ لَكَ أُفٍّ لَكَ" قَالَ: فَكَبُرَ ذَلِكَ فِي ذَرْعِي فَاسْتَأْخَرْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي فَقَالَ:" مَا لَكَ امْشِ" فَقُلْتُ: أَحْدَثْتَ حَدَثًا قَالَ: مَا ذَاكَ قُلْتُ: أَفَّفْتَ بِي قَالَ: لَا وَلَكِنْ هَذَا فُلَانٌ بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانٍ فَغَلَّ نَمِرَةً فَدُرِّعَ الْآنَ مِثْلُهَا مِنْ نَارٍ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ چکتے تو بنی عبدالاشہل کے لوگوں میں جاتے اور ان سے گفتگو کرتے یہاں تک کہ مغرب کی نماز کے لیے اترتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے تیزی سے جا رہے تھے کہ ہم بقیع سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس ہے تم پر، افسوس ہے تم پر“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات مجھے گراں لگی، اور یہ سمجھ کر کہ آپ مجھ سے مخاطب ہیں، میں پیچھے ہٹ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟ چلو“، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی بات ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا؟“، تو میں نے عرض کیا: آپ نے مجھ پر اف کہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! (تم پر نہیں) البتہ اس شخص پر (اظہار اف) کیا ہے جسے میں نے فلاں قبیلے میں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا، تو اس نے ایک دھاری دار چادر چرا لی ہے ؛ چنانچہ اب اسے ویسی ہی آگ کی چادر پہنا دی گئی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 863]
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھ لیتے تو بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کے ہاں باتیں کرتے حتیٰ کہ مغرب کے وقت واپس تشریف لاتے۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے وقت جلدی اور تیزی سے آ رہے تھے کہ ہم بقیع سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! افسوس تجھ پر!۔“ مجھے یہ الفاظ دل میں بہت تکلیف دہ محسوس ہوئے اور میں پیچھے ہٹ گیا۔ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے مخاطب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیچھے کیوں رہ گئے ہو؟ چلتے آؤ۔“ میں نے کہا: مجھ سے کوئی قصور ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مطلب؟“ میں نے کہا: آپ نے مجھ پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ (میری) اس بات کا سبب یہ ہے کہ میں نے ایک آدمی کو فلاں قبیلے کی زکاۃ لینے کے لیے بھیجا تھا۔ اس نے ایک چادر چھپا لی، اب اسے اس جیسی آگ کی چادر پہنائی گئی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12028)، مسند احمد 6/392 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 863 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 863
863 ۔ اردو حاشیہ:
➊ اگر وقت تنگ ہو یا جماعت کھڑی ہو چکی ہو تو نما زکے لیے ایسی تیزی سے چلا جا سکتا ہے جس سے مسجدونماز کی توہین ہو نہ انسانی وقار ہی کے خلاف ہو۔
➋ فوت شدہ کو تصور میں حاضر کر کے اظہار افسوس و ملامت کے لیے اس سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سلام و دعا میں اس سے خطاب کیا جا سکتا ہے، جیسے السلام علیکم یا اھل القبور وغیرہ، دعا ہے، بشرطیکہ میت کو حقیقتاً حاضر ناظر نہ سمجھے۔
➊ اگر وقت تنگ ہو یا جماعت کھڑی ہو چکی ہو تو نما زکے لیے ایسی تیزی سے چلا جا سکتا ہے جس سے مسجدونماز کی توہین ہو نہ انسانی وقار ہی کے خلاف ہو۔
➋ فوت شدہ کو تصور میں حاضر کر کے اظہار افسوس و ملامت کے لیے اس سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سلام و دعا میں اس سے خطاب کیا جا سکتا ہے، جیسے السلام علیکم یا اھل القبور وغیرہ، دعا ہے، بشرطیکہ میت کو حقیقتاً حاضر ناظر نہ سمجھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 863]
Sunan an-Nasa'i Hadith 863 in Urdu
الفضل بن عبيد الله المدني ← أبو رافع القبطي