سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب : السجود في { والنجم }
باب: سورۃ النجم میں سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 959
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قال:" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ، فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ أَسْلَمَ الْمُطَّلِبُ".
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سورۃ النجم پڑھی، تو آپ نے سجدہ کیا، اور جو لوگ آپ کے پاس تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے اپنا سر اٹھائے رکھا، اور سجدہ کرنے سے انکار کیا، (راوی کہتے ہیں) ان دنوں مطلب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 959]
حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں سورۂ نجم تلاوت فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور جتنے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، ان سب نے سجدہ کیا، ”میں نے سر اٹھا لیا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا،“ اس وقت (راویٔ حدیث) حضرت مطلب رضی اللہ عنہ مسلمان نہ ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11287)، مسند احمد 3/420، 4/215، 6/400 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، جعفر بن المطلب مجهول الحال،روي عنه جماعة ووثقه ابن حبان وحده وقال: ’’من متقني أهل مكة وكان فاضلاً‘‘ (مشاهير علماء الأمصار: 621). والحديث الآتي (960) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 959 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 959
959 ۔ اردو حاشیہ:
➊ امام مالک رحمہ اللہ سورۂ نجم کے سجدے کے قائل نہیں، حالانکہ یہاں صریح لفظ ہیں « ﴿فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا﴾ » [النجم 63: 53]
➋ جب آپ نے یہ سورت تلاوت فرمائی، اس وقت آپ کے پاس مشرکین بھی تھے۔ انہوں نے بھی سجدہ کر لیا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے سے انکار نہ تھے۔ بعد میں جب ان کے سرداروں نے ملامت کی کہ سیاسی نقطۂ نظر سے یہ درست نہیں تو پھر انہوں نے جھوٹ گھڑ لیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمارے بتوں کی تعریف کی تھی، حالانکہ یہ بات عقلاً و نقلاً بعید ہے، نیز اس کے بارے میں جو روایت آتی ہے وہ ضعیف ہے۔
➌ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سجدۂ تلاوت کے لیے وضو کرنا ضروری نہیں کیونکہ آپ کے پاس جتنے لوگ تھے، سب نے سجدہ کیا حتیٰ کہ مشرکین نے بھی سجدہ کیا۔ اور مشرک نجس ہوتا ہے، اگر وہ وضو کر بھی لے تو ناپاک ہی رہتا ہے، چنانچہ معلوم ہوا کہ سجدہ تلاوت کے لیے وضو کرنا ضروری نہیں، البتہ باوضو ہو تو بہتر اور افضل ہے۔
➊ امام مالک رحمہ اللہ سورۂ نجم کے سجدے کے قائل نہیں، حالانکہ یہاں صریح لفظ ہیں « ﴿فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا﴾ » [النجم 63: 53]
➋ جب آپ نے یہ سورت تلاوت فرمائی، اس وقت آپ کے پاس مشرکین بھی تھے۔ انہوں نے بھی سجدہ کر لیا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے سے انکار نہ تھے۔ بعد میں جب ان کے سرداروں نے ملامت کی کہ سیاسی نقطۂ نظر سے یہ درست نہیں تو پھر انہوں نے جھوٹ گھڑ لیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمارے بتوں کی تعریف کی تھی، حالانکہ یہ بات عقلاً و نقلاً بعید ہے، نیز اس کے بارے میں جو روایت آتی ہے وہ ضعیف ہے۔
➌ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سجدۂ تلاوت کے لیے وضو کرنا ضروری نہیں کیونکہ آپ کے پاس جتنے لوگ تھے، سب نے سجدہ کیا حتیٰ کہ مشرکین نے بھی سجدہ کیا۔ اور مشرک نجس ہوتا ہے، اگر وہ وضو کر بھی لے تو ناپاک ہی رہتا ہے، چنانچہ معلوم ہوا کہ سجدہ تلاوت کے لیے وضو کرنا ضروری نہیں، البتہ باوضو ہو تو بہتر اور افضل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 959]
Sunan an-Nasa'i Hadith 959 in Urdu
جعفر بن المطلب السهمي ← المطلب بن أبي وداعة القرشي