🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ
باب: ظہر میں قرأت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 973
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ النَّضْرِ، قال: كُنَّا بِالطَّفِّ عِنْدَ أَنَسٍ فَصَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا فَرَغَ قال:" إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ لَنَا بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن نضر کو کہتے سنا کہ ہم طف میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے لوگوں کو ظہر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھی، تو آپ نے (ظہر کی) دونوں رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں یعنی «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 973]
ابوبکر بن نضر کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس مقام طف (کربلا) میں تھے، آپ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں میں یہ دو سورتیں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھیں۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1714) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو بکر بن نضر‘‘ مجہول الحال ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ”طف“ کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو بكر بن النضر بن أنس بن مالك: مستور،لم أجد من وثقه. ولبعض الحديث شاهد عند ابن خزيمة (بتحقيقي: 512 وسنده صحيح) وابن حبان (469). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥أبو بكر بن النضر الأنصاري، أبو بكر
Newأبو بكر بن النضر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
مقبول
👤←👥عبد الله بن عبيد الحميري
Newعبد الله بن عبيد الحميري ← أبو بكر بن النضر الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن واصل السدوسي، أبو عبيدة
Newعبد الواحد بن واصل السدوسي ← عبد الله بن عبيد الحميري
ثقة
👤←👥محمد بن شجاع المروذي، أبو عبد الله
Newمحمد بن شجاع المروذي ← عبد الواحد بن واصل السدوسي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 973 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 973
973 ۔ اردو حاشیہ: مذکورہ دونوں روایات سنداً ضعیف ہیں، تاہم امام سری نمازوں میں بھی کوئی آیت یا کچھ الفاظ بلند آواز سے پڑھ سکتا ہے تاکہ مقتدی قرأت کا اندازہ کر لیں کہ رکوع میں کتنی دیر باقی ہے اور وہ اپنی قرأت وقت پر ختم کر لیں جیسا کہ دوسرے دلائل سے اس کی تائید ہوتی ہے، البتہ یہ بلند آواز جہری نمازوں کی قرأت سے کم اور مختلف ہونی چاہیے تاکہ امتیاز قائم رہے۔ ظاہر ہے یہ جہر آپ قصداً کر دیا کرتے تھے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اتفاقاً آواز بلند ہو جاتی ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 973]

Sunan an-Nasa'i Hadith 973 in Urdu