🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب : تطويل القيام في الركعة الأولى من صلاة الظهر
باب: ظہر کی پہلی رکعت میں لمبا قیام کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 974
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال:" لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَجِيءُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى يُطَوِّلُهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز ظہر کھڑی کی جاتی تھی، پھر جانے والا بقیع جاتا اور اپنی حاجت پوری کرتا، پھر وضو کرتا اور واپس آتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے، (کیونکہ) آپ اسے خوب لمبی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 974]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: تحقیق ظہر کی اقامت ہوتی اور کوئی جانے والا بقیع تک جاتا اور قضائے حاجت کرتا، پھر وضو کر کے واپس آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے (اس قدر) لمبی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 34 (454)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 7 (825)، (تحفة الأشراف: 4282)، مسند احمد 3/35 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥قزعة بن يحيى البصري، أبو الغادية
Newقزعة بن يحيى البصري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥عطية بن قيس الكلابي، أبو يحيى
Newعطية بن قيس الكلابي ← قزعة بن يحيى البصري
ثقة
👤←👥سعيد بن عبد العزيز التنوخي، أبو محمد، أبو عبد العزيز
Newسعيد بن عبد العزيز التنوخي ← عطية بن قيس الكلابي
ثقة إمام لكنه اختلط في آخر عمره
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← سعيد بن عبد العزيز التنوخي
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
974
صلاة الظهر تقام فيذهب الذاهب إلى البقيع فيقضي حاجته ثم يتوضأ ثم يجيء ورسول الله في الركعة الأولى يطولها
صحيح مسلم
1021
صلاة الظهر تقام فينطلق أحدنا إلى البقيع فيقضي حاجته ثم يأتي أهله فيتوضأ ثم يرجع إلى المسجد ورسول الله في الركعة الأولى
صحيح مسلم
1020
صلاة الظهر تقام فيذهب الذاهب إلى البقيع فيقضي حاجته ثم يتوضأ ثم يأتي ورسول الله في الركعة الأولى مما يطولها
سنن ابن ماجه
825
الصلاة تقام لرسول الله الظهر فيخرج أحدنا إلى البقيع فيقضي حاجته ويجيء فيتوضأ فيجد رسول الله في الركعة الأولى من الظهر
سنن نسائی کی حدیث نمبر 974 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 974
974 ۔ اردو حاشیہ:
➊ ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرنا مسنون ہے چونکہ یہ کاروبار کا وقت ہوتا ہے، اس لیے جب پہلی رکعت لمبی ہو گی تو زیادہ سے زیادہ لوگ پوری نماز باجماعت اداکرسکیں گے۔ واللہ أعلم۔
➋ لوگ آپ کے پیچھے بڑے ذوق شوق سے کھڑے ہوتے تھے۔ آپ کی صحبت و مجلس کی برکت سے طویل قیام میں انہیں سرور آتا تھا۔ آپ کی روحانیت بھی ان کا احاطہ کر لیتی تھی، اس لیے آپ کو اتنا لمبا قیام مناسب تھا۔ آپ کبھی مختصر قیام بھی کرتے تھے۔ دوسرے ائمہ کے لیے نمازیوں کے مناسب حال قیام کرنے کا ارشاد ہے۔ قرأت لمبی بھی ہو اور مخفی بھی، تو یہ اکتاہٹ اور بے زاری پیدا کرتی ہے جو نماز کی روح کے منافی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 974]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث825
ظہر اور عصر کی قرات کا بیان۔
قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تمہارے لیے اس میں کوئی خیر نہیں ۱؎، میں نے اصرار کیا کہ آپ بیان تو کیجئیے، اللہ آپ پہ رحم کرے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز ظہر کی اقامت کہی جاتی اس وقت ہم میں سے کوئی بقیع جاتا، اور قضائے حاجت (پیشاب پاخانہ) سے فارغ ہو کر واپس آتا، پھر وضو کرتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی پہلی رکعت میں پاتا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 825]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  بقیع اس جگہ کانام ہے۔
جسے آجکل جنت البقیع کہتے ہیں۔
یہ مدینہ کا قبرستان ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں اس کے ایک حصے میں قبریں تھیں۔
باقی خالی میدان تھا۔
اس وقت مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمارت بھی تھوڑے سے رقبے پر بنی ہوئی تھی۔

(2)
  اس میں تیرے لئے بھلائی نہیں مطلب یہ کہ علم کا مقصد عمل کرنا ہے۔
اور آپ لوگ اس کے مطابق عمل کرکےاتنی لمبی نماز نہیں پڑھ سکتے۔
پھر پوچھنے کا کیا فائدہ؟
(3)
پہلی رکعت کوطویل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ لوگ پوری نماز باجماعت کا ثواب حاصل کرلیں۔

(4)
اگر نمازی لمبی نماز پڑھنے میں مشقت محسوس نہ کریں۔
تو نماز کو معمول سے زیادہ طول دیا جاسکتا ہے۔
ورنہ مناسبت حد تک تخفیف کرنے کا حکم ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 825]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1021
حضرت قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے پاس (استفادہ کے لیے) بہت سے لوگ موجود تھے تو جب لوگ منتشر ہوگئے (چلے گئے) میں نے عرض کیا، میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا، جن کے بارے میں یہ لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے، میں نے کہا، میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں تو انہوں نے کہا، اس سوال میں تیرے لیے بہتری یا بھلائی نہیں ہے (کیونکہ تم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1021]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بقیع کا فاصلہ،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد سے تقریباً ایک ایکڑ تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1021]

Sunan an-Nasa'i Hadith 974 in Urdu