🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب مَا جَاءَ إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ فَزَوِّجُوهُ
باب: قابل اطمینان دیندار کی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کر دینے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1084
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ ابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي حَاتِمٍ الْمُزَنِيِّ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ خُولِفَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَشْبَهُ، وَلَمْ يَعُدَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْحَمِيدِ مَحْفُوظًا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کا پیغام دے، جس کی دین داری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہو تو اس سے شادی کر دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہو گا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی اس روایت میں عبدالحمید بن سلیمان کی مخالفت کی گئی ہے، اسے لیث بن سعد نے بطریق: «ابن عجلان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً (منقطعاً) روایت کی ہے (یعنی: ابن وشیمہ کا ذکر نہیں کیا ہے)،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کا کہنا ہے کہ لیث کی حدیث اشبہ (قریب تر) ہے، انہوں (بخاری) نے عبدالحمید کی حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا،
۳- اس باب میں ابوحاتم مزنی اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/النکاح 46 (1967) (حسن صحیح) (سند میں عبدالحمید بن سلیمان میں کچھ کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے الإ رواء رقم: 1868، الصحیحة 1022)»
قال الشيخ الألباني: حسن، الإرواء (1668) ، الصحيحة (1022)
قال الشيخ زبير على زئي:(1084) إسناده ضعيف / جه 1967
ابن عجلان عنعن (د 128) وتلميذه عبد الحميد بن سليمان :ضعيف (تق:3764) وانظر الحديث الآتي :1085


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← أبو هريرة الدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← الليث بن سعد الفهمي
صحابي
👤←👥زفر بن وثيمة النصري
Newزفر بن وثيمة النصري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← زفر بن وثيمة النصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الحميد بن سليمان الخزاعي، أبو عمر
Newعبد الحميد بن سليمان الخزاعي ← محمد بن عجلان القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الحميد بن سليمان الخزاعي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1084
إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد عريض
سنن ابن ماجه
1967
إذا أتاكم من ترضون خلقه ودينه فزوجوه إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد عريض
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1084 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1084
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبدالحمید بن سلیمان میں کچھ کلام ہے،
لیکن متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے،
دیکھئے:
الإ رواء رقم: 1868،
الصحیحة 1022)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1084]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1967
(شادی میں) کفو کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے شادی کر دو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑی خرابی ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1967]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رشتہ کرتے وقت اخلاق و کردار اور دینی حالت کو پیش نظر رکھنا چائیے۔
ہم مرتبہ (کفو)
ہونے کا مطلب یہی ہے۔
اس مفہوم کی ایک حدیث باب 6 میں گزر چکی ہے (سنن ابن ماجة،، حدیث: 1858)

(2)
اگر دین کے علاوہ خاندان اورمال وغیرہ کو پیش نظر رکھا جائے تو کئی نیک لڑکیاں بےنکاح رہ جائیں گی۔
اور یہ چیز ان کےلیے تو دین کے لحاظ سے نیک نہ ہونےکی وجہ سےجھگڑے پیدا ہوں گے اور یہی مال و جمال یا اونچا خاندان مصیبت کا باعث بن جائے گا۔

(3)
  یہ روایت بعض حضرات کےنزدیک حسن ہے۔ (دیکھئے: إرواء الغلیل: 6/ 266، رقم: 1868، والصحیحة، رقم: 1022)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1967]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1084 in Urdu