🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب ما جاء في حكم ولي القتيل في القصاص والعفو
باب: قصاص اور عفو کے سلسلے میں مقتول کے ولی (وارث) کے فیصلے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1407
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُفِعَ الْقَاتِلُ إِلَى وَلِيِّهِ , فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ قَوْلُهُ صَادِقًا فَقَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ " , فَخَلَّى عَنْهُ الرَّجُلُ , قَالَ: وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ , قَالَ: فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ , قَالَ: فَكَانَ يُسَمَّى: ذَا النِّسْعَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالنِّسْعَةُ حَبْلٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی قتل کر دیا گیا، تو قاتل مقتول کے ولی (وارث) کے سپرد کر دیا گیا، قاتل نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے اسے قصداً قتل نہیں کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اگر وہ (قاتل) اپنے قول میں سچا ہے پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے ۱؎، چنانچہ مقتول کے ولی نے اسے چھوڑ دیا، وہ آدمی رسی سے بندھا ہوا تھا، تو وہ رسی گھسیٹتا ہوا باہر نکلا، اس لیے اس کا نام ذوالنسعہ (رسی یا تسمے والا) رکھ دیا گیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اور «نسعہ»: رسی کو کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الدیات 3 (4498)، سنن النسائی/القسامة 5 (4726)، سنن ابن ماجہ/الدیات 34 (2690)، (تحفة الأشراف: 12507) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ قاتل اپنے دعویٰ میں اگر سچا ہے تو اسے قتل کر دینے کی صورت میں ولی کے گناہ گار ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے اس کا نہ قتل کرنا زیادہ مناسب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2690)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1407
إن كان قوله صادقا فقتلته دخلت النار
سنن أبي داود
4498
أما إنه إن كان صادقا ثم قتلته دخلت النار قال فخلى سبيله قال و
سنن ابن ماجه
2690
إن كان صادقا ثم قتلته دخلت النار
سنن النسائى الصغرى
4726
أما إنه إن كان صادقا ثم قتلته دخلت النار فخلى سبيله قال وكان مكتوفا بنسعة فخرج يجر نسعته فسمي ذا النسعة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1407 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1407
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ قاتل اپنے دعویٰ میں ا گر سچا ہے تو اسے قتل کردینے کی صورت میں ولی کے گناہ گار ہونے کا خدشہ ہے،
اس لیے اس کا نہ قتل کرنا زیادہ مناسب ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1407]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4726
قصاص کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا گیا، قاتل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اسے مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا ۱؎، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! میرا ارادہ قتل کا نہ تھا، آپ نے مقتول کے ولی سے فرمایا: سنو! اگر وہ سچ کہہ رہا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا تو تم بھی جہنم میں جاؤ گے، تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ شخص رسی سے بندھا ہوا تھا، وہ اپنی رسی گھسیٹتا ہوا نکلا تو اس کا نام ذوالنسعۃ ( [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4726]
اردو حاشہ:
(1) مقتول کے وارث کو چاہیے کہ وہ قصاص لینے میں جلدی نہ کرے بلکہ معاف کر دے۔ اگرچہ قصاص لینا جائز ہے، تاہم معاف کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ ممکن ہے قاتل بے گناہ ہو یا اس نے جان بوجھ کر قتل نہ کیا ہو وغیرہ۔
(2) اس حدیث سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص کو اس کے کسی پیشے یا کسی اور خصوصیت کی وجہ سے کوئی لقب دیا جائے اور وہ اسے برا نہ سمجھے تو اس کا جواز ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور شخص کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ذوالنسعہ (رسی یا تندی والا) کہا کرتے تھے، یعنی اس کے گلے وغیرہ میں پڑی رسی کی وجہ سے اس کا لقب ہی ذوالنسعہ پڑ گیا۔
(3) سپرد کر دیا شریعت کی رو سے قصاص کا حق مقتول کے ورثاء کو ہے۔ وہ چاہیں تو قتل کریں، چاہیں معاف کر دیں، اس لیے آپ نے قاتل کو مقتول کے ولی کے سپرد کر دیا۔ یہ ضروری نہیں کہ حکومت خود قتل کرے، تاہم جج کے فیصلے سے پہلے از خود ہی قاتل کو قتل کرنا درست نہیں کیونکہ یہ قانون کو ہاتھ میں لینے والی بات ہے، البتہ جب قاضی قاتل حوالے کرے تو پھر اسے قتل کرنا جائز ہے۔
(4) آگ میں جائے گا۔ کیونکہ جان بوجھ کر قتل کرنے والے ہی کو قصاصاً قتل کیا جا سکتا ہے۔ قاتل کے بیان کے مطابق اس سے یہ قتل عمداً سرزد نہیں ہوا تھا، لہٰذا وہ قتل کا مستحق نہیں تھا لیکن آپ کا قاتل کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دینا یہ بتانا ہے کہ اس قتل کی ظاہری صورت عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے) ہی کی تھی۔ قاتل کی نیت کو تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ گویا ایسی صورت میں بھی مقتول کے ورثاء کو چاہیے کہ وہ قاتل کی جان بخشی کر دیں تاکہ کوئی شخص ناحق قتل نہ ہو۔ اگرچہ قاضی ظاہر حالات کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا، تاہم مقتول کے ورثاء یہ رعایت دے سکتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4726]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1407 in Urdu