🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب ما جاء في فضل إطعام الطعام
باب: کھانا کھلانے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1855
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ " قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ اور سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 11 (3694)، (تحفة الأشراف: 8641) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب تم یہ سب کام اخلاص کے ساتھ انجام دیتے رہو گے یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت ہو تو تم جنت میں امن و امان کے ساتھ جاؤ گے، تمہیں کوئی خوف اور غم نہیں لاحق ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3694)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥السائب بن مالك الثقفي، أبو يحيى، أبو كثير، أبو عطاء
Newالسائب بن مالك الثقفي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد
Newعطاء بن السائب الثقفي ← السائب بن مالك الثقفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← عطاء بن السائب الثقفي
ثقة متقن
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1855
اعبدوا الرحمن وأطعموا الطعام وأفشوا السلام تدخلوا الجنة بسلام
سنن ابن ماجه
3694
اعبدوا الرحمن وأفشوا السلام
بلوغ المرام
1325
يا أيها الناس أفشو السلام وصلوا الأرحام وأطعموا الطعام وصلوا بالليل والناس نيام تدخلوا الجنة بسلام
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1855 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1855
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جب تم یہ سب کام اخلاص کے ساتھ انجام دیتے رہوگے یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت ہوتو تم جنت میں امن وامان کے ساتھ جاؤ گے،
تمہیں کوئی خوف اور غم نہیں لاحق ہوگا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1855]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1325
مکارم اخلاق (اچھے عمدہ اخلاق) کی ترغیب کا بیان
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! سلام کو عام کرو اور صلہ رحمی کرو اور کھانا کھلاؤ۔ رات کو قیام کرو جب دوسرے لوگ سوتے ہوں، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔ اسے ترمذی نے نکالا ہے اور صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1325»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، الأطعمة، باب ما جاء في فضل إطعام الطعام، حديث:1855.»
تشریح:
اس حدیث میں جن امور کو موجبات جنت قرار دیا گیا ہے ان میں تین کا تعلق انسانوں کے باہمی پیار اور محبت سے ہے اور ایک کا اللہ تعالیٰ کی عبادت سے‘ گویا اشارہ ہے کہ جس کا تعلق اللہ اور اللہ کے بندوں سے درست ہوا وہ جنت میں جائے گا اور جو ان امور خیر کی پابندی کرے گا اس کے لیے حصول جنت کا راستہ آسان ہو جائے گا‘ وہ نیکی کی شاہراہ پر چل نکلے گا اور برائیوں سے اجتناب کرے گا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1325]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3694
سلام کو عام کرنے اور پھیلانے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، اور سلام کو عام کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3694]
اردو حاشہ:
(1)
اسلام اللہ سے اور بندوں سے صحیح تعلق قائم کرنے کا نام ہے۔
اللہ سے صحیح تعلق کی بنیاد عقیدہ توحید اور عبادات کے ذریعے اس کا اظہار ہے۔
بندوں سے صحیح تعلق قائم کرنے اور اسے بر قرار رکھنے کے لیے ایک آسان کام سب کو سلام کرنا ہے۔

(2)
سلام عام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو سلام کیا جائے۔
اور جب بھی ملاقات ہو یا ملاقات کے بعد رخصت ہونا ہو تو سلام کیا جائے۔
اس میں دوست، رشتے دار اور اجنبی کے درمیان فرق نہ رکھا جائے۔

(3)
غیرمسلم کو سلام کرنے میں پہل نہ کی جائے لیکن اگر وہ سلام کریں تو انہیں جواب دیا جائے، جیسے باب نمبر 13 میں آرہا ہے۔

(4)
سلام اتنی بلند آواز سے کرنا چاہیے کہ کم از کم وہ شخص سن لے جسے سلام کیا گیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3694]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1855 in Urdu