سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب منه
باب: فتنوں کے پھیلنے سے متعلق ایک پیش گوئی۔
حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک روئے زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2207]
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 754) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہو گی جب روئے زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے، کیونکہ یمن کی جانب سے ایک ہوا ایسی چلے گی جو مومنوں کی روحوں کو قبض کر لے گی، صرف غیر مومن رہ جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
375
| لا تقوم الساعة حتى لا يقال في الأرض الله الله |
صحيح مسلم |
376
| لا تقوم الساعة على أحد يقول الله الله |
جامع الترمذي |
2207
| لا تقوم الساعة حتى لا يقال في الأرض الله الله |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2207 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2207
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب روئے زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا،
صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے،
کیوں کہ یمن کی جانب سے ایک ہوا ایسی چلے گی جو مومنوں کی روحوں کو قبض کرلے گی،
صرف غیر مومن رہ جائیں گے۔
وضاحت:
1؎:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب روئے زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا،
صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے،
کیوں کہ یمن کی جانب سے ایک ہوا ایسی چلے گی جو مومنوں کی روحوں کو قبض کرلے گی،
صرف غیر مومن رہ جائیں گے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2207]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 376
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ایسے انسان پر قیامت قائم نہیں ہو گی جو اللہ اللہ کہتا ہو گا۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:376]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس دنیا کا نظام جب درہم برہم ہونا ہوگا تو اس دنیا میں خالق کائنات کا نام لیوا کوئی شخص زندہ نہیں ہوگا۔
اس دنیا کا وجود کائنات کے موجد کے نام کی برکت سے قائم اورجس قدر اس کا نام یہاں بلند وبالا ہوگا اس قدر اس میں سکون وامن ہوگا،
اورجب اسکا نام لینے والے ختم ہوں گے تو یہ کائنات بھی تمام ہوجائے گی۔
فوائد ومسائل:
اس دنیا کا نظام جب درہم برہم ہونا ہوگا تو اس دنیا میں خالق کائنات کا نام لیوا کوئی شخص زندہ نہیں ہوگا۔
اس دنیا کا وجود کائنات کے موجد کے نام کی برکت سے قائم اورجس قدر اس کا نام یہاں بلند وبالا ہوگا اس قدر اس میں سکون وامن ہوگا،
اورجب اسکا نام لینے والے ختم ہوں گے تو یہ کائنات بھی تمام ہوجائے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 376]
حدیث نمبر: 2207M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
اس سند سے انس رضی الله عنہ سے موقوفاً اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ یہ پہلی حدیث (روایت) سے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2207M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 640) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2207 in Urdu
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري