🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب ما جاء في هوان الدنيا على الله عز وجل
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2320
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی وقعت اگر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 3 (4110) (تحفة الأشراف: 4699) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ یہ حقیر سے حقیر چیز ہے، اس کی حقارت کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ کی نگاہ میں اس کی کوئی قدر و قیمت ہوتی تو اسے صرف اپنے محبوب بندوں کو نوازتا، جب کہ حال یہ ہے کہ اسے اپنے دشمنوں یعنی کفار و مشرکین کو دیتا ہے، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ دینے والا اپنے دشمن کو وہ چیز دے جو اس کے نزدیک قدر و قیمت والی ہو، کافروں کو جنت کی ایک ادنی نعمت سے اسی لیے محروم رکھا گیا ہے کیونکہ جنت اللہ کے محبوب بندوں کے لیے ہے، نہ کہ اس کے دشمنوں کے لیے، معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک دنیا اور اس کے مال و اسباب کی قطعاً کوئی اہمیت نہیں ہے، لہٰذا اہل ایمان کے نزدیک بھی اس کی زیادہ اہمیت نہیں ہونی چاہیئے بلکہ اسے آخرت کی زندگی سنوارنے کا ایک ذریعہ سمجھنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (940)
قال الشيخ زبير على زئي:(2320) إسناده ضعيف / جه 4110
عبدالحميد بن سليمان : ضعيف (تقدم: 1084) وله شاهد ضعيف فى مسند الشهاب للقضاعي (1439) فيه أبو نصر أحمد بن الحسن بن محمد الشاهي ولم أجد من وثقه، لا الخطيب ولا غيره

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن سليمان الخزاعي، أبو عمر
Newعبد الحميد بن سليمان الخزاعي ← سلمة بن دينار الأعرج
ضعيف الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الحميد بن سليمان الخزاعي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2320
لو كانت الدنيا تعدل عند الله جناح بعوضة ما سقى كافرا منها شربة ماء
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2320 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2320
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے بلکہ یہ حقیر سے حقیرچیزہے،
اس کی حقارت کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ کی نگاہ میں اس کی کوئی قدروقیمت ہوتی تو اسے صرف اپنے محبوب بندوں کو نوازتا،
جب کہ حال یہ ہے کہ اسے اپنے دشمنوں یعنی کفارومشرکین کو دیتاہے،
یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ دینے والا اپنے دشمن کووہ چیزدے جو اس کے نزدیک قدروقیمت والی ہو،
کافروں کو جنت کی ایک ادنی نعمت سے اسی لیے محروم رکھاگیا ہے کیونکہ جنت اللہ کے محبوب بندوں کے لیے ہے،
نہ کہ اس کے دشمنوں کے لیے،
معلوم ہو اکہ اللہ کے نزدیک دنیااور اس کے مال واسباب کی قطعاً کوئی اہمیت نہیں ہے،
لہٰذا اہل ایمان کے نزدیک بھی اس کی زیادہ اہمیت نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے آخرت کی زندگی سنوارنے کا ایک ذریعہ سمجھناچاہئے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2320]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2320 in Urdu