🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب ما جاء في الصبر على البلاء
باب: مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2398
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: " الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ، فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأُخْتِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں ابوہریرہ اور حذیفہ بن یمان کی بہن فاطمہ رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مصیبتیں کس پر زیادہ آتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء و رسل پر پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں پھر جو ان کے بعد میں ہوں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 23 (4023) (تحفة الأشراف: 3934)، وسنن الدارمی/الرقاق 67 (2825)، و مسند احمد (1/172، 174، 180، 185) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ جو بندہ اپنے ایمان میں جس قدر مضبوط ہو گا اسی قدر اس کی ابتلاء و آزمائش بھی ہو گی، لیکن اس ابتلاء و آزمائش میں اس کے لیے ایک بھلائی کا بھی پہلو ہے کہ اس سے اس کے گناہ معاف ہوتے رہیں گے، اور بندہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (4023)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥مصعب بن سعد الزهري، أبو زرارة
Newمصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← مصعب بن سعد الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2398
الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الرجل على حسب دينه إن كان دينه صلبا اشتد بلاؤه كان في دينه رقة ابتلي على حسب دينه ما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي على الأرض ما عليه خطيئة
سنن ابن ماجه
4023
الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى العبد على حسب دينه كان في دينه صلبا اشتد بلاؤه كان في دينه رقة ابتلي على حسب دينه ما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي على الأرض وما عليه من خطيئة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2398 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2398
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ جوبندہ اپنے ایمان میں جس قدرمضبوط ہوگا اسی قدراس کی ابتلاء وآزمائش بھی ہوگی،
لیکن اس ابتلاء وآزمائش میں اس کے لیے ایک بھلائی کا بھی پہلو ہے کہ اس سے اس کے گناہ معاف ہوتے رہیں گے،
اوربندہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2398]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4023
آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4023]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نیک صاحب ایمان پر دنیوی مشکلات کاآنا اس کے لیے درجات کی بلندی کاباعث ہے۔

(2)
دنیا کی مصیبتیں مومن کے لیے نعمت ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے وہ آخرت کے عذاب سے بچ جاتا ہے۔

(3)
مصیبت پر صبر ایمان کے کامل ہونے کی علامت ہے۔

(4)
انبیاء کرام علیھم السلام کے حالات کے پیش نظر رکھنے سے صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4023]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2398 in Urdu