🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب منه
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2623
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی (اور خوش) ہوا اس نے ایمان کا مزہ پا لیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 11 (34) (تحفة الأشراف: 5127)، و مسند احمد (1/208) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جو اللہ ہی سے ہر چیز کا طالب ہوا، اسلام کی راہ کو چھوڑ کر کسی دوسری راہ پر نہیں چلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر اس نے عمل کیا تو ایسے شخص کو ایمان کی مٹھاس مل کر رہے گی، کیونکہ اس کا دل ایمان سے پر ہو گا، اور ایمان اس کے اندر پورے طور پر رچا بسا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥العباس بن عبد المطلب الهاشمي، أبو الفضلصحابي
👤←👥عامر بن سعد القرشي
Newعامر بن سعد القرشي ← العباس بن عبد المطلب الهاشمي
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← عامر بن سعد القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة مكثر
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن الهاد الليثي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
151
ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربا الإسلام دينا محمد رسولا
جامع الترمذي
2623
ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربا الإسلام دينا محمد نبيا
مشكوة المصابيح
9
ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2623 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2623
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جو اللہ ہی سے ہر چیز کا طالب ہوا،
اسلام کی راہ کو چھوڑ کر کسی دوسری راہ پر نہیں چلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر اس نے عمل کیا تو ایسے شخص کو ایمان کی مٹھاس مل کر رہے گی،
کیوں کہ اس کا دل ایمان سے پر ہوگا،
اور ایمان اس کے اندر پورے طور پر رچا بسا ہوگا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2623]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 9
مومن کون؟
«. . . ‏‏‏‏وَعَن الْعَبَّاس بن عبد الْمطلب قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا . . .»
. . . سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کا مزہ اس نے چکھا جو اللہ کے رب ہونے اور اسلام کو اپنا دین ماننے اور محمد کو اپنا رسول ماننے پر راضی و خوش ہو گیا . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 9]
تخریج الحدیث:
[صحيح مسلم 151]

فقہ الحدیث
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص شرک (اور کفر) نہیں کرتا، صرف ایک اللہ ہی کو اپنا رب، مشکل کشا و حاجت روا سمجھتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (آخری) رسول اور نبی مانتا ہے اور دین اسلام کو ہی اپنا دین سمجھتا ہے تو یہ شخص مومن اور کامل الایمان ہے۔
اسلام کے ارکان ثلاثہ (توحید، رسالت اور آخرت) میں پہلا رکن توحید ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی صفات خاصہ میں کسی مخلوق کو شریک کر لیا، اس شخص کے سارے اعمال ضائع اور مردود ہیں۔
✿ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
«وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ»
اگر یہ شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال ضائع و باطل ہو جاتے۔ [الانعام: 88]
➋ ابوالفضل عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں دو تین سال بڑے تھے۔ غزوہ بدر سے پہلے یا بعد میں مسلمان ہوئے۔ آپ غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثابت قدم رہے تھے۔ [صحيح مسلم: 1775، دارالسلام: 4612]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«هذا العباس بن عبدالمطلب أجود قريش كفاً وأوصلها»
یہ عباس بن عبدالمطلب ہیں، جو قریش میں سب سے زیادہ سخی اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔‏‏‏‏ [مسند أحمد 185/1 وسنده حسن، النسائي فى الكبري: 8174 وصححه ابن حبان، الاحسان: 7052 والحاكم 338/3، 329 ووافقه الذهبي]
آپ کی بیان کردہ پینتیس (35) احادیث مسند بقی بن مخلد میں ہیں۔ حافظ ذہبی نے آپ کے تفصیلی حالات لکھے ہیں۔ [سيراعلام النبلاء 78/2۔ 103]
آپ 32 ھ یا 34 ھ کو فوت ہوئے۔ «رضي الله عنه»
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 9]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 151
حضرت عبّاس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ایمان کا مزہ چکھ لیا اس نے جو اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول ماننے پر دل سے راضی ہو گیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:151]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
جس طرح مزیدار اور ذائقہ دار مادی غذاؤں میں ایک لذت اور لطف ہوتا ہے جسے صرف وہ آدمی پا سکتا ہے جس کی قوت ذائقہ کسی بیماری کی وجہ سے متاثر نہ ہوئی ہو،
اسی طرح ایمان میں ایک لذت اور ذائقہ ہے،
جسے وہ خوش قسمت انسان ہی پا سکتا ہے،
جس نےپوری خوش دلی اور انبساط اور دل کی رضا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو اپنا مالک اور پروردگار اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول اور اسلام کو اپنا دین اور زندگی کا دستور بنا لیا ہو،
اللہ ورسول اور اسلام کے ساتھ اس کا تعلق محض رسمی اور موروثی یا محض عقلی اور دماغی نہ ہو۔
بلکہ ان کے ساتھ دل کی گرویدگی اور شیفتگی ہو،
کیونکہ رضا کا معنی،
قناعت،
کفایت اور کچھ نہ چاہنا ہے۔
(2)
اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہونا یہ ہے کہ اس کی قضا وقدر پر راضی رہے،
دکھ سکھ،
رنج والم اور تکلیف ومصیبت میں مطمئن رہے،
اس کا گلا شکوہ نہ کرے۔
اسلام پر راضی ہونا یہ ہے کہ اس کے احکام وہدایات کی دل کی گہرائیوں سے فرمانبرداری کرے اور اس کے احکام وفرامین کے بارے میں کسی قسم کے شک وشبہ میں نہ پڑے۔
اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر راضی ہونا یہ ہے کہ آپ کی اطاعت واتباع کرے،
آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے محبت وعقیدت کا رشتہ استوار کرے،
آپ کے طور وطریقہ کو چھوڑ کر کوئی اور طریقہ اور رویہ اختیار نہ کرے،
ایسے انسان کو نیکی کے کام سے لذت وفرحت حاصل ہوتی ہے اور نافرمانی اور معصیت کے ارتکاب سے رنج وکلفت محسوس ہوتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 151]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2623 in Urdu