سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب ما جاء في تتريب الكتاب
باب: خط لکھ کر اس پر مٹی ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2713
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ كِتَابًا فَلْيُتَرِّبْهُ، فَإِنَّهُ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , قَالَ: وَحَمْزَةُ هُوَ عِنْدِي ابْنُ عَمْرٍو النَّصِيبِيُّ، هُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے، کیونکہ اس سے حاجت برآری کی زیادہ توقع ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث منکر ہے،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے ابوزبیر کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- حمزہ ہمارے نزدیک عمرو نصیبی کے بیٹے ہیں، اور وہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2713]
۱- یہ حدیث منکر ہے،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے ابوزبیر کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- حمزہ ہمارے نزدیک عمرو نصیبی کے بیٹے ہیں، اور وہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 49 (3774) (تحفة الأشراف: 2699) (سند میں حمزة بن عمرو متروک الحدیث ہے اور ابو زبیر مکی مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابن ماجہ کی سند میں بقیہ ہیں اور روایت ابو احمد دمشقی سے ہے جو مجہول ہیں) (ضعیف) (الضعیفة 1738)»
وضاحت: ۱؎: تحریر پھیلی اور بگڑی ہوئی نہیں بلکہ صاف و ستھری رہے گی تو جس مقصد کے لیے لکھی گئی ہو گی، اس مقصد کے جلد حاصل ہونے کی امید کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (5657) ، الضعيفة (1738) // ضعيف الجامع الصغير (674) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2713) ضعيف جدًا
حمزة بن أبى حمزة النصيبي : متروك متهم بالوضع (تق: 1519) وللحديث طريق آخر عند ابن ماجه (3774) فيه مجهول
حمزة بن أبى حمزة النصيبي : متروك متهم بالوضع (تق: 1519) وللحديث طريق آخر عند ابن ماجه (3774) فيه مجهول
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥حمزة بن أبي حمزة الجعفي حمزة بن أبي حمزة الجعفي ← محمد بن مسلم القرشي | متروك متهم بالوضع | |
👤←👥شبابة بن سوار الفزاري، أبو عمرو شبابة بن سوار الفزاري ← حمزة بن أبي حمزة الجعفي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد محمود بن غيلان العدوي ← شبابة بن سوار الفزاري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2713
| إذا كتب أحدكم كتابا فليتربه فإنه أنجح للحاجة |
سنن ابن ماجه |
3774
| تربوا صحفكم أنجح لها إن التراب مبارك |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2713 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2713
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تحریر پھیلی اور بگڑی ہوئی نہیں بلکہ صاف وستھری رہے گی تو جس مقصد کے لیے لکھی گئی ہو گی،
اس مقصد کے جلد حاصل ہونے کی امید کی جائے گی۔
نوٹ:
(سند میں حمزۃ بن عمرو متروک الحدیث ہے اور ابوزبیر مکی مدلس ہیں اورروایت عنعنہ سے ہے،
اورا بن ماجہ کی سند میں بقیہ ہیں اور روایت ابواحمد دمشقی سے ہے جو مجہول ہیں) (ضعیف) (الضعیفة: 1738)
وضاحت:
1؎:
تحریر پھیلی اور بگڑی ہوئی نہیں بلکہ صاف وستھری رہے گی تو جس مقصد کے لیے لکھی گئی ہو گی،
اس مقصد کے جلد حاصل ہونے کی امید کی جائے گی۔
نوٹ:
(سند میں حمزۃ بن عمرو متروک الحدیث ہے اور ابوزبیر مکی مدلس ہیں اورروایت عنعنہ سے ہے،
اورا بن ماجہ کی سند میں بقیہ ہیں اور روایت ابواحمد دمشقی سے ہے جو مجہول ہیں) (ضعیف) (الضعیفة: 1738)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2713]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2713 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري