سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ
باب: مصافحہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2728
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہمارا آدمی اپنے بھائی سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے کہا: پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے، آپ نے فرمایا: ”ہاں“ (بس اتنا ہی کافی ہے) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2728]
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 15 (3702) (تحفة الأشراف: 822) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں (۱) ملاقات کے وقت کسی کے سامنے جھکنا منع ہے، اس لیے جھک کر کسی کا پاؤں چھونا ناجائز ہے، (۲) اس حدیث میں معانقہ اور بوسے سے جو منع کیا گیا ہے، یہ ہر مرتبہ ملاقات کے وقت کرنے سے ہے، البتہ نئی سفر سے آ کر ملے تو معانقہ و بوسہ درست ہے، (۳) «أفيأخذ بيده ويصافحه» سے یہ واضح ہے کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے ہو گا، کیونکہ حدیث میں دونوں ہاتھ کے پکڑنے کے متعلق نہیں پوچھا گیا، بلکہ یہ پوچھا گیا ہے کہ ”اس کے ہاتھ کو پکڑے اور مصافحہ کرے“ معلوم ہوا کہ مصافحہ کا مسنون طریقہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (3702)
قال الشيخ زبير على زئي:(2728) إسناده ضعيف / جه 3702
حنظلة السدوسي : ضعيف (تق: 1583) ولبعض الحديث شواهد ضعيفة
حنظلة السدوسي : ضعيف (تق: 1583) ولبعض الحديث شواهد ضعيفة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥حنظلة بن عبد الله البصري، أبو عبد الرحيم حنظلة بن عبد الله البصري ← أنس بن مالك الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← حنظلة بن عبد الله البصري | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2728
| الرجل منا يلقى أخاه أو صديقه أينحني له قال لا قال أفيلتزمه ويقبله قال لا قال أفيأخذ بيده ويصافحه قال نعم |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2728 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2728
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں
(1)
ملاقات کے وقت کسی کے سامنے جھکنا منع ہے،
اس لیے جھک کر کسی کا پاؤں چھونا ناجائز ہے۔
(2)
اس حدیث میں معانقہ اور بوسے سے جو منع کیا گیا ہے،
یہ ہر مرتبہ ملاقات کے وقت کرنے سے ہے،
البتہ نئے سفر سے آ کر ملے تو معانقہ و بوسہ درست ہے۔
(3)
(أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ) سے یہ واضح ہے کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے ہوگا،
کیوں کہ حدیث میں دونوں ہاتھ کے پکڑنے کے متعلق نہیں پوچھا گیا،
بلکہ یہ پوچھا گیا ہے کہ ”اس کے ہاتھ کو پکڑے اور مصافحہ کرے“ معلوم ہوا کہ مصافحہ کا مسنون طریقہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا ہی ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں
(1)
ملاقات کے وقت کسی کے سامنے جھکنا منع ہے،
اس لیے جھک کر کسی کا پاؤں چھونا ناجائز ہے۔
(2)
اس حدیث میں معانقہ اور بوسے سے جو منع کیا گیا ہے،
یہ ہر مرتبہ ملاقات کے وقت کرنے سے ہے،
البتہ نئے سفر سے آ کر ملے تو معانقہ و بوسہ درست ہے۔
(3)
(أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ) سے یہ واضح ہے کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے ہوگا،
کیوں کہ حدیث میں دونوں ہاتھ کے پکڑنے کے متعلق نہیں پوچھا گیا،
بلکہ یہ پوچھا گیا ہے کہ ”اس کے ہاتھ کو پکڑے اور مصافحہ کرے“ معلوم ہوا کہ مصافحہ کا مسنون طریقہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا ہی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2728]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2728 in Urdu
حنظلة بن عبد الله البصري ← أنس بن مالك الأنصاري