سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب ما جاء إن العطاس في الصلاة من الشيطان
باب: نماز میں چھینک شیطان کی جانب سے آتی ہے۔
حدیث نمبر: 2748
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَفَعَهُ قَالَ: " الْعُطَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ، وَالْحَيْضُ وَالْقَيْءُ وَالرُّعَافُ مِنَ الشَّيْطَانِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُ جَدِّ عَدِيٍّ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ قَالَ: اسْمُهُ دِينَارٌ.
ثابت کے باپ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں چھینک، اونگھ، جمائی، حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف شریک کی روایت جانتے ہیں جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس روایت «عن عدی بن ثابت عن ابیہ عن جدہ» کے تعلق سے پوچھا کہ عدی کے دادا کا کیا نام ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، لیکن یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نام دینار ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2748]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف شریک کی روایت جانتے ہیں جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس روایت «عن عدی بن ثابت عن ابیہ عن جدہ» کے تعلق سے پوچھا کہ عدی کے دادا کا کیا نام ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، لیکن یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نام دینار ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 42 (969) (تحفة الأشراف: 3543) (ضعیف) (سند میں ”ثابت انصاری“ مجہول، اور ”ابوالیقظان“ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (999) // ضعيف الجامع الصغير (3865) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2748) إسناده ضعيف / جه 969
أبو اليقظان : ضعيف مدلس (تقدم:126)
أبو اليقظان : ضعيف مدلس (تقدم:126)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبيد بن عازب الأنصاري، أبو ثابت | صحابي | |
👤←👥ثابت بن دينار الأنصاري، أبو عدي ثابت بن دينار الأنصاري ← عبيد بن عازب الأنصاري | مجهول الحال | |
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري عدي بن ثابت الأنصاري ← ثابت بن دينار الأنصاري | ثقة رمي بالتشيع | |
👤←👥عثمان بن عمير البجلي، أبو اليقظان عثمان بن عمير البجلي ← عدي بن ثابت الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← عثمان بن عمير البجلي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← شريك بن عبد الله القاضي | ثقة حافظ |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2748 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2748
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ”ثابت انصاری“ مجہول،
اور ”ابوالیقظان“ ضعیف ہیں)
نوٹ:
(سند میں ”ثابت انصاری“ مجہول،
اور ”ابوالیقظان“ ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2748]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2748 in Urdu
ثابت بن دينار الأنصاري ← عبيد بن عازب الأنصاري