علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب ما جاء في إنشاد الشعر
باب: شعر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2848
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: قِيلَ لَهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَيَتَمَثَّلُ وَيَقُولُ: وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِوَفِي الْبَابِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی شعر بطور مثال اور نمونہ پیش کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ کا شعر بطور مثال پیش کرتے تھے، آپ کہتے تھے: «ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ۱؎ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2848]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 287 (997) (تحفة الأشراف: 16148) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پورا شعر اس طرح ہے: «ستبدى لك الأيام ماكنت جاهلا ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ”زمانہ تمہارے سامنے وہ چیزیں ظاہر اور پیش کرے گا جن سے تم ناواقف اور بیخبر ہو گے، اور تمہارے پاس وہ آدمی خبریں اور اطلاعات لے کر آئے گا جس کو تم نے خرچہ دے کر اس کام کے لیے بھیجا بھی نہ ہو گا“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2057)
قال الشيخ زبير على زئي:(2848) إسناده ضعيف
شريك بن عبدالله القاضي مدلس (تقدم: 112) وعنعن وللحديث شواهد ضعيفة
شريك بن عبدالله القاضي مدلس (تقدم: 112) وعنعن وللحديث شواهد ضعيفة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2848
| ويأتيك بالأخبار من لم تزود |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2848 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2848
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پورا شعر اس طرح ہے:
سَتُبْدِيْ لَكَ الْأَيَّامُ مَاكُنْتَ جَاهِلاً وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ) (زمانہ تمہارے سامنے وہ چیزیں ظاہر اور پیش کرے گا جن سے تم ناواقف اور بے خبر ہو گے،
اور تمہارے پاس وہ آدمی خبریں اور اطلاعات لے کر آئے گا جس کو تم نے خرچہ دے کر اس کام کے لیے بھیجا بھی نہ ہو گا)
وضاحت:
1؎:
پورا شعر اس طرح ہے:
سَتُبْدِيْ لَكَ الْأَيَّامُ مَاكُنْتَ جَاهِلاً وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ) (زمانہ تمہارے سامنے وہ چیزیں ظاہر اور پیش کرے گا جن سے تم ناواقف اور بے خبر ہو گے،
اور تمہارے پاس وہ آدمی خبریں اور اطلاعات لے کر آئے گا جس کو تم نے خرچہ دے کر اس کام کے لیے بھیجا بھی نہ ہو گا)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2848]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2848 in Urdu
شريح بن هانئ الحارثي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق