🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
107. باب
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3559
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ وَلَوْ فَعَلَهُ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي نُصَيْرَةَ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گناہ کر کے توبہ کر لے اور اپنے گناہ پر نادم ہو تو وہ چاہے دن بھر میں ستر بار بھی گناہ کر ڈالے وہ گناہ پر مُصر اور بضد نہیں مانا جائے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف ابونصیرہ کی روایت سے جانتے ہیں
۳- اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 361 (1514) (تحفة الأشراف: 6628) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (2340) ، ضعيف أبي داود (267) // (326 / 1514) ، ضعيف الجامع الصغير (5004) //

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكرصحابي
👤←👥أبو رجاء مولى أبي بكر، أبو رجاء
Newأبو رجاء مولى أبي بكر ← أبو بكر الصديق
مجهول
👤←👥مسلم بن عبيد الواسطي، أبو نصيرة
Newمسلم بن عبيد الواسطي ← أبو رجاء مولى أبي بكر
ثقة
👤←👥عثمان بن واقد العمري
Newعثمان بن واقد العمري ← مسلم بن عبيد الواسطي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الحميد بن عبد الرحمن الحماني، أبو يحيى
Newعبد الحميد بن عبد الرحمن الحماني ← عثمان بن واقد العمري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسين بن يزيد الأنصاري، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن يزيد الأنصاري ← عبد الحميد بن عبد الرحمن الحماني
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3559
ما أصر من استغفر ولو فعله في اليوم سبعين مرة
سنن أبي داود
1514
ما أصر من استغفر وإن عاد في اليوم سبعين مرة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3559 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3559
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3559]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1514
توبہ و استغفار کا بیان۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1514]
1514. اردو حاشیہ:
➊ استغفار کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا۔ کہ وہ ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دے۔ اور بندے کو رُسوا نہ کرے۔
➋ اپنے گناہوں پراڑنا اور اصرار کرنا۔ ظالموں اور گناہ گاروں کی عادت ہے۔ [يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ]
[الجاثیة۔8]
اللہ کی آیات کو سنتا ہے۔ جو کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر اڑا رہتا ہے۔ (اپنے گناہوں پر) تکبرکرتے ہوئے۔ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ تو ایسے کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجیئے۔ جب کہ متقی انسان کی صفت اس کے برخلاف ہوتی ہے۔ [وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ]
[آل عمران۔135]
متقی اپنے کیے پراصرار نہیں کرتے۔ اور وہ جانتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1514]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 3559 in Urdu