🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
105. باب
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِإِصْبَعَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحِّدْ أَحِّدْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: إِذَا أَشَارَ الرَّجُلُ بِإِصْبَعَيْهِ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الشَّهَادَةِ لَا يُشِيرُ إِلَّا بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے دعا کرتا تھا تو آپ نے اس سے کہا: ایک سے ایک سے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- یہی اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی تشہد میں انگلیوں سے اشارہ کرتے وقت صرف ایک انگلی سے اشارہ کرے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/السھو 37 (12773) (تحفة الأشراف: 12865) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جیسا کہ مؤلف نے خود تشریح کر دی ہے کہ یہ تشہد (اولیٰ اور ثانیہ) میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں ہے، تشہد کے شروع ہی سے ترپن کا حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی کو باربار اٹھا کر توحید کی شہادت برابر دی جائے گی، نہ کہ صرف «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ» پر جیسا کہ ہند و پاک میں رائج ہو گیا ہے، حدیث میں واضح طور پر صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ترپن کا حلقہ بناتے تھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، یا حرکت دیتے رہتے تھے، اس میں جگہ کی کوئی قید نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، صفة الصلاة، المشكاة (913)
قال الشيخ زبير على زئي:(3557) إسناده ضعيف / ن 1273
محمد بن عجلان عنعن (تقدم:1084) وللحديث شواهد ضعيفة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥القعقاع بن حكيم الكناني
Newالقعقاع بن حكيم الكناني ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← القعقاع بن حكيم الكناني
صدوق حسن الحديث
👤←👥صفوان بن عيسى القرشي، أبو محمد
Newصفوان بن عيسى القرشي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← صفوان بن عيسى القرشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1273
رجلا كان يدعو بأصبعيه فقال رسول الله أحد أحد
جامع الترمذي
3557
رجلا كان يدعو بإصبعيه فقال رسول الله أحد أحد
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3557 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3557
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جیسا کہ مؤلف نے خود تشریح کر دی ہے کہ یہ تشہد (اولیٰ اور ثانیہ) میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں ہے،
تشہد کے شروع ہی سے ترپن کا حلقہ بنا کرشہادت کی انگلی کو بار بار اٹھا کر توحید کی شہادت برابر دی جائیگی،
نہ کہ صرف (أَشْہَدُ أَن لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللہ) پر جیسا کہ ہندو پاک میں رائج ہو گیا ہے،
حدیث میں واضح طور پر صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ترپن کا حلقہ بناتے تھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے،
یا حرکت دیتے رہتے تھے،
اس میں جگہ کی کوئی قید نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3557]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1273
دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور کس انگلی سے اشارہ کرے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1273]
1273۔ اردو حاشیہ: دو انگلیوں سے اشارہ یا تو دائیں ہاتھ ہی کی دو انگلیوں سے ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ہاتھوں کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلیوں کے ساتھ ہو چونکہ یہ اشارہ توحید کا عملی اظہار ہے، لہٰذا ایک انگلی ہی سے ہونا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1273]