🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
166. باب ما جاء في كراهية السدل في الصلاة
باب: نماز میں سدل کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 378
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، فَكَرِهَ بَعْضُهُمُ السَّدْلَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالُوا: هَكَذَا تَصْنَعُ الْيَهُودُ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا كُرِهَ السَّدْلُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَأَمَّا إِذَا سَدَلَ عَلَى الْقَمِيصِ فَلَا بَأْسَ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَكَرِهَ ابْنُ الْمُبَارَكِ السَّدْلَ فِي الصَّلَاةِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ہم ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو عطا کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی ہے عسل بن سفیان ہی کے طریق سے جانتے ہیں،
۲- اس باب میں ابوجحیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
۳- سدل کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں سدل کرنا مکروہ ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح یہود کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نماز میں سدل اس وقت مکروہ ہو گا جب جسم پر ایک ہی کپڑا ہو، رہی یہ بات کہ جب کوئی کرتے کے اوپر سدل کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۲؎ یہی احمد کا قول ہے لیکن ابن مبارک نے نماز میں سدل کو (مطلقاً) مکروہ قرار دیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 86 (643)، (تعلیقا من طریق عسل عن عطائ، ومتصلاً من طریق سلیمان الأحول عن عطائ) (تحفة الأشراف: 14195)، سنن الدارمی/الصلاة 104 (1419) (حسن) (عسل بن سفیان بصری ضعیف راوی ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، لیکن ابو جحیفہ کے شاہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے)»
وضاحت: ۱؎: سدل کی صورت یہ ہے کہ چادر یا رومال وغیرہ کو اپنے سر یا دونوں کندھوں پر ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو لٹکتا چھوڑ دیا جائے اور سدل کی ایک تفسیر یہ بھی کی جاتی ہے کہ کُرتا یا جبہ اس طرح پہنا جائے کہ دونوں ہاتھ آستین میں ڈالنے کے بجائے اندر ہی رکھے جائیں اور اسی حالت میں رکوع اور سجدہ کیا جائے۔
۲؎: اس تقیید پر کوئی دلیل نہیں ہے، حدیث مطلق ہے اس لیے کہ سدل مطلقاً جائز نہیں، کرتے کے اوپر سے سدل میں اگرچہ ستر کھلنے کا خطرہ نہیں ہے لیکن اس سے نماز میں خلل تو پڑتا ہی ہے، چاہے سدل کی جو بھی تفسیر کی جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (764) ، التعليق على ابن خزيمة (918) ، صحيح أبي داود (650)
قال الشيخ زبير على زئي:(378) ضعيف /جه 966
عسل : ضعيف (تق : 4578) وللحديث طريق آخر ضعيف جدًا عند أبى داود (643) وللحديث شواھد ضعيفة
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عسل بن سفيان اليربوعي، أبو قرة
Newعسل بن سفيان اليربوعي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← عسل بن سفيان اليربوعي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر
Newقبيصة بن عقبة السوائي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← قبيصة بن عقبة السوائي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
378
نهى رسول الله عن السدل في الصلاة
سنن أبي داود
643
نهى عن السدل في الصلاة وأن يغطي الرجل فاه
سنن ابن ماجه
966
نهى رسول الله أن يغطي الرجل فاه في الصلاة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 378 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 378
اردو حاشہ:
1؎:
سدل کی صور ت یہ ہے کہ چادر یا رومال وغیرہ کو اپنے سر یا دونوں کندھوں پر ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو لٹکتا چھوڑ دیا جائے اور سدل کی ایک تفسیر یہ بھی کی جاتی ہے کہ کُرتا یا جُبہ اس طرح پہنا جائے کہ دونوں ہاتھ آستین میں ڈالنے کے بجائے اندر ہی رکھے جائیں اور اسی حالت میں رکوع اور سجدہ کیا جائے۔

2؎:
اس تقیید پر کوئی دلیل نہیں ہے،
حدیث مطلق ہے اس لیے کہ سدل مطلقاً جائز نہیں،
کرتے کے اوپر سے سدل میں اگرچہ ستر کھلنے کا خطرہ نہیں ہے لیکن اس سے نماز میں خلل تو پڑتا ہی ہے،
چاہے سدل کی جو بھی تفسیرکی جائے۔

نوٹ:
(عسل بن سفیان بصری ضعیف راوی ہے،
اس لیے یہ سند ضعیف ہے،
لیکن ابو جحیفہ کے شاہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 378]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 643
نماز میں سدل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل ۱؎ کرنے اور آدمی کو منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عسل نے عطاء سے، عطاء نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 643]
643. اردو حاشیہ:
  ➊ سدل کی شارحیں حدیث نے یہ وضاحت کی ہے کہ چادر کو اس کے درمیان سے اپنے سر یا کندھوں پر ڈال لیا جائے اور اس کی دائیں بائیں اطراف لٹکی رہیں۔ یا صاحب النہایہ کے بیان کے مطابق کپڑے کو اس انداز سے اپنے اوپر لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی اندر ہی بند ہو جائیں اور پھر رکوع اور سجدے میں بھی ان کو نہ نکالا جائے، تو یہ صورتیں نماز کےمنافی ہیں۔
➋ روایت ضعیف ہے، اس لیے مسئلے کےاثبات کے لیے کافی نہیں۔ تاہم شیخ البانی  رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک صحیح ہے، بنابریں اس صورت میں سدل ممنوع ہو گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 643]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث966
نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 966]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے شیخ نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے بنا بریں اسے حسن ماننے کی صورت میں نماز کے دوران میں منہ پر کپڑا ڈالنا یا کپڑے سے منہ چھپانا منوع ہوگا۔
اس عمل کو اہل عرب سدل سے تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ بعض روایات میں لفظ سدل کا بھی ذکر آیا ہے۔
دیکھئے: (مسند احمد، 348، 345، 341، 295، وسنن ابی داؤد، الصلاۃ، حدیث: 644، 643)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 966]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 378 in Urdu