سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب مناقب حذيفة بن اليمان رضى الله عنه
باب: حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3812
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ، قَالَ: " إِنِ اسْتَخْلفْتُ عَلَيْكُمْ فَعَصَيْتُمُوهُ عُذِّبْتُمْ، وَلَكِنْ مَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَصَدِّقُوهُ، وَمَا أَقْرَأَكُمْ عَبْدُ اللَّهِ فَاقْرَءُوهُ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ لِإِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى: يَقُولُونَ هَذَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ؟ قَالَ: لَا، عَنْ زَاذَانَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: هَذَا حَسَنٌ حَدِيثُ شَرِيكٍ.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اپنا جانشین مقرر فرما دیتے، آپ نے فرمایا: ”اگر میں نے اپنا جانشین مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب دیئے جاؤ گے، البتہ حذیفہ جو کچھ تم سے کہیں تم ان کی تصدیق کرو“، اور جو عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) ۱؎ تمہیں پڑھائیں انہیں پڑھ لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے اور یہ شریک کی روایت سے ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3812]
یہ حدیث حسن ہے اور یہ شریک کی روایت سے ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3322) (ضعیف) (سند میں ابوالیقظان اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں، ابوالیقظان شیعی بھی ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث شریک اور ابوالیقظان کی وجہ سے سنداً ضعیف ہے، مگر خلافت کے بارے میں ابن مسعود کی وصیت کی بابت ایک صحیح حدیث (رقم: (۳۸۱۸) گزر چکی ہے، اس حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ آپ نے واضح طور پر اپنے جانشین کا نام تو نہیں بتایا، مگر حذیفہ رضی اللہ کی احالہ کر کے اشارہ کر دیا کہ جو حذیفہ بتائیں، وہی میری بات ہے، ابوحذیفہ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے بارے میں بعد میں بتا دیا، (نیز دیکھئیے حدیث رقم: ۲/۳۸)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (6232)
قال الشيخ زبير على زئي:(3812) إسناده ضعيف
أبو اليقظان: ضعيف (تقدم:126)
أبو اليقظان: ضعيف (تقدم:126)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥زاذان الكندي، أبو عبد الله، أبو عمر زاذان الكندي ← حذيفة بن اليمان العبسي | ثقة | |
👤←👥عثمان بن عمير البجلي، أبو اليقظان عثمان بن عمير البجلي ← زاذان الكندي | ضعيف الحديث | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← عثمان بن عمير البجلي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥إسحاق بن عيسى البغدادي، أبو يعقوب إسحاق بن عيسى البغدادي ← شريك بن عبد الله القاضي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي، أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي ← إسحاق بن عيسى البغدادي | ثقة فاضل متقن حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3812
| إن استخلفت عليكم فعصيتموه عذبتم ما حدثكم حذيفة فصدقوه ما أقرأكم عبد الله فاقرءوه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3812 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3812
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث شریک اور ابوالیقظان کی وجہ سے سنداً ضعیف ہے،
مگر خلافت کے بارے میں ابن مسعود ؓ کی وصیت کی بابت ایک صحیح حدیث (رقم:3818) گزر چکی ہے،
اس حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر اپنے جانشین کا نام تو نہیں بتایا،
مگر حذیفہ رضی اللہ کی طرف اشارہ کر دیا کہ جو حذیفہ بتائیں،
وہی میری بات ہے،
ابوحذیفہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بعد میں بتا دیا،
(نیز دیکھئے حدیث رقم: 2/38)
نوٹ:
(سند میں ابوالیقظان اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں،
ابوالیقظان شیعی بھی ہے)
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث شریک اور ابوالیقظان کی وجہ سے سنداً ضعیف ہے،
مگر خلافت کے بارے میں ابن مسعود ؓ کی وصیت کی بابت ایک صحیح حدیث (رقم:3818) گزر چکی ہے،
اس حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر اپنے جانشین کا نام تو نہیں بتایا،
مگر حذیفہ رضی اللہ کی طرف اشارہ کر دیا کہ جو حذیفہ بتائیں،
وہی میری بات ہے،
ابوحذیفہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بعد میں بتا دیا،
(نیز دیکھئے حدیث رقم: 2/38)
نوٹ:
(سند میں ابوالیقظان اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں،
ابوالیقظان شیعی بھی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3812]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3812 in Urdu
زاذان الكندي ← حذيفة بن اليمان العبسي