سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب مناقب زيد بن حارثة رضى الله عنه
باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3814
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " مَا كُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَتْ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 ". قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے“ (الاحزاب: ۵)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3814]
یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 3209 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح وهو مكرر الحديث (3439)
الرواة الحديث:
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3814 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3814
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو،
یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے (الأحزاب:5)
وضاحت:
1؎:
تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو،
یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے (الأحزاب:5)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3814]
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي