سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب مناقب أنس بن مالك رضى الله عنه
باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3828
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رُبَّمَا قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ "، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي يُمَازِحُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: ”اے دو کانوں والے“۔ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3828]
یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 1192 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3828
| يا ذا الأذنين |
جامع الترمذي |
1992
| يا ذا الأذنين |
سنن أبي داود |
5002
| يا ذا الأذنين |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3828 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3828
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3828]
عاصم الأحول ← أنس بن مالك الأنصاري