سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. باب فضل عائشة رضى الله عنها
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3883
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: " مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب بھی کوئی حدیث مشکل ہوتی اور ہم نے اس کے بارے میں عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا تو ہمیں ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی جانکاری ضرور ملی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3883]
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ عائشہ رضی الله عنہا کی وسعت علمی کی دلیل ہے، اور اس سے عام صحابہ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (6185)
الرواة الحديث:
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3883 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3883
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وسعت علمی کی دلیل ہے،
اوراس سے عام صحابہ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
وضاحت:
1؎:
یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وسعت علمی کی دلیل ہے،
اوراس سے عام صحابہ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3883]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3883 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري