سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
176. باب ما جاء في سجدتى السهو قبل التسليم
باب: سلام سے پہلی سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 391
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسَدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.
عبداللہ ابن بحینہ اسدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں کھڑے ہو گئے جب کہ آپ کو بیٹھنا تھا، چنانچہ جب نماز پوری کر چکے تو سلام پھیرنے سے پہلے آپ نے اسی جگہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے، آپ نے ہر سجدے میں اللہ اکبر کہا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ سہو کیے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن بحینہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے،
۳- محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ اور عبداللہ بن سائب قاری رضی الله عنہما دونوں سہو کے دونوں سجدے سلام سے پہلے کرتے تھے،
۴- اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ان کی رائے ہے کہ سجدہ سہو ہر صورت میں سلام سے پہلے ہے، اور یہ حدیث دوسری حدیثوں کی ناسخ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آخر میں اسی پر رہا ہے،
۵- اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب آدمی دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو وہ ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے،
۶- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن بحینہ ہی عبداللہ بن مالک ہیں، ابن بحینہ کے باپ مالک ہیں اور بحینہ ان کی ماں ہیں،
۷- سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کہ اسے آدمی سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے،
۸- اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے یہی قول اکثر فقہاء مدینہ کا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ وغیرہ کا اور یہی قول شافعی کا بھی ہے،
۹- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہی قول مالک بن انس کا ہے،
۱۰- اور احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر اور عصر میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس جس صورت میں جیسے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے، اس پر اسی طرح عمل کرے، اور سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔ ۱۱- اسحاق بن راہویہ بھی احمد کے موافق کہتے ہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل موجود نہ ہو تو اس میں اگر نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور اگر کمی ہوئی ہو تو سلام سے پہلے کرے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 391]
۱- ابن بحینہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے،
۳- محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ اور عبداللہ بن سائب قاری رضی الله عنہما دونوں سہو کے دونوں سجدے سلام سے پہلے کرتے تھے،
۴- اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ان کی رائے ہے کہ سجدہ سہو ہر صورت میں سلام سے پہلے ہے، اور یہ حدیث دوسری حدیثوں کی ناسخ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آخر میں اسی پر رہا ہے،
۵- اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب آدمی دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو وہ ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے،
۶- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن بحینہ ہی عبداللہ بن مالک ہیں، ابن بحینہ کے باپ مالک ہیں اور بحینہ ان کی ماں ہیں،
۷- سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کہ اسے آدمی سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے،
۸- اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے یہی قول اکثر فقہاء مدینہ کا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ وغیرہ کا اور یہی قول شافعی کا بھی ہے،
۹- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہی قول مالک بن انس کا ہے،
۱۰- اور احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر اور عصر میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس جس صورت میں جیسے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے، اس پر اسی طرح عمل کرے، اور سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔ ۱۱- اسحاق بن راہویہ بھی احمد کے موافق کہتے ہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل موجود نہ ہو تو اس میں اگر نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور اگر کمی ہوئی ہو تو سلام سے پہلے کرے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 146 (829)، و147 (830)، والسہو1 (1225)، و5 (1230)، والأیمان والنذور 15 (6670)، صحیح مسلم/المساجد 19 (570)، سنن ابی داود/ الصلاة 200 (1034)، سنن النسائی/التطبیق 106 (1178)، والسہو 28 (1262)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 131 (1206، 1207)، (تحفة الأشراف: 9154)، موطا امام مالک/الصلاة 17 (65)، مسند احمد (3455، 346) سنن الدارمی/الصلاة 176 (1540) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: (حديث عبد الله ابن بحينة) صحيح، (حديث محمد بن إبراهيم) صحيح الإسناد، إن كان ابن إبراهيم - وهو التيمي المدني - لقي أبا هريرة والسائب وهو ابن عمير.، ابن ماجة (1206 و 1207)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مالك بن بحينة، أبو محمد | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← عبد الله بن مالك بن بحينة | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
829
| بهم الظهر فقام في الركعتين الأوليين لم يجلس فقام ا |
صحيح البخاري |
830
| صلى بنا رسول الله الظهر فقام وعليه جلوس فلما كان في آخر صلاته سجد سجدتين وهو جالس |
صحيح البخاري |
6670
| صلى بنا النبي فقام في الركعتين الأوليين قبل أن يجلس فمضى في صلاته فلما قضى صلاته انتظر الناس تسليمه فكبر وسجد قبل أن يسلم ثم رفع رأسه ثم كبر وسجد ثم رفع رأسه وسلم |
صحيح البخاري |
1225
| قام من اثنتين من الظهر لم يجلس بينهما فلما قضى صلاته سجد سجدتين ثم سلم بعد ذلك |
صحيح البخاري |
1224
| صلى لنا رسول الله ركعتين من بعض الصلوات ثم قام فلم يجلس فقام الناس معه فلما قضى صلاته ونظرنا تسليمه كبر قبل التسليم فسجد سجدتين وهو جالس ثم سلم |
صحيح البخاري |
1230
| قام في صلاة الظهر وعليه جلوس فلما أتم صلاته سجد سجدتين فكبر في كل سجدة وهو جالس قبل أن يسلم وسجدهما الناس معه مكان ما نسي من الجلوس |
صحيح مسلم |
1269
| صلى لنا رسول الله ركعتين من بعض الصلوات ثم قام فلم يجلس فقام الناس معه فلما قضى صلاته ونظرنا تسليمه كبر فسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم ثم سلم |
صحيح مسلم |
1271
| قام في الشفع الذي يريد أن يجلس في صلاته فمضى في صلاته فلما كان في آخر الصلاة سجد قبل أن يسلم ثم سلم |
صحيح مسلم |
1270
| قام في صلاة الظهر وعليه جلوس فلما أتم صلاته سجد سجدتين يكبر في كل سجدة وهو جالس قبل أن يسلم وسجدهما الناس معه مكان ما نسي من الجلوس |
جامع الترمذي |
391
| قام في صلاة الظهر وعليه جلوس فلما أتم صلاته سجد سجدتين يكبر في كل سجدة وهو جالس قبل أن يسلم وسجدهما الناس معه مكان ما نسي من الجلوس |
سنن أبي داود |
1034
| صلى لنا رسول الله ركعتين ثم قام فلم يجلس فقام الناس معه فلما قضى صلاته وانتظرنا التسليم كبر فسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم ثم سلم |
سنن النسائى الصغرى |
1179
| صلى فقام في الركعتين فسبحوا فمضى فلما فرغ من صلاته سجد سجدتين ثم سلم |
سنن النسائى الصغرى |
1224
| قام في الصلاة وعليه جلوس فسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم |
سنن النسائى الصغرى |
1262
| قام في الثنتين من الظهر فلم يجلس فلما قضى صلاته سجد سجدتين كبر في كل سجدة وهو جالس قبل أن يسلم وسجدهما الناس معه مكان ما نسي من الجلوس |
سنن النسائى الصغرى |
1178
| صلى فقام في الشفع الذي كان يريد أن يجلس فيه فمضى في صلاته حتى إذا كان في آخر صلاته سجد سجدتين قبل أن يسلم ثم سلم |
سنن النسائى الصغرى |
1223
| صلى لنا رسول الله ركعتين ثم قام فلم يجلس فقام الناس معه فلما قضى صلاته ونظرنا تسليمه كبر فسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم ثم سلم |
سنن ابن ماجه |
1206
| صلى صلاة أظن أنها الظهر فلما كان في الثانية قام قبل أن يجلس فلما كان قبل أن يسلم سجد سجدتين |
سنن ابن ماجه |
1207
| قام في ثنتين من الظهر نسي الجلوس حتى إذا فرغ من صلاته إلا أن يسلم سجد سجدتي السهو وسلم |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
134
| قضى صلاته وانتظرنا تسليمه كبر، فسجد سجدتين وهو جالس قبل السلام، ثم سلم |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
137
| قام من اثنتين من الظهر لم يجلس فيهما، فلما قضى صلاته سجد سجدتين ثم سلم بعد ذلك |
بلوغ المرام |
262
| صلى بهم الظهر فقام في الركعتين الاوليين ولم يجلس فقام الناس معه حتى إذا قضى الصلاة وانتظر الناس تسليمه كبر وهو جالس، وسجد سجدتين قبل ان يسلم ثم سلم |
مسندالحميدي |
927
| صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة أظن أنها العصر، فقام في الثانية، ولم يجلس، فلما كان في آخر صلاته سجد سجدتين من قبل أن يسلم |
Sunan at-Tirmidhi Hadith 391 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← عبد الله بن مالك بن بحينة