سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. باب في فضل اليمن
باب: یمن کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3938
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " إِنْ لَمْ نَكُنْ مِنَ الْأَزْدِ، فَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی (یعنی قبیلہ ازد کے) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3938]
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(صحیح) تحفة الأحوذی (4196/10/304) کے نسخے میں یہ حدیث ہے، اور مکتبة المعارف کے نسخے اور تحفة الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے، انس رضی الله عنہ قبیلہ انصار کے تھے، اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں، اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
الرواة الحديث:
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3938 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3938
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے،
انس رضی اللہ عنہ قبیلہ انصار کے تھے،
اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں،
اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔
نوٹ:
تحفة الأحوذی: (4196/10/304) کے نسخے میں یہ حدیث ہے،
اور مکتبۃ المعارف کے نسخے اور تحفۃ الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے)
وضاحت:
1؎:
یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے،
انس رضی اللہ عنہ قبیلہ انصار کے تھے،
اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں،
اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔
نوٹ:
تحفة الأحوذی: (4196/10/304) کے نسخے میں یہ حدیث ہے،
اور مکتبۃ المعارف کے نسخے اور تحفۃ الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3938]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3938 in Urdu
غيلان بن جرير المعولي ← أنس بن مالك الأنصاري