سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. ( باب )
(روایت بالمعنی کا جواز اور اس کی شروط)
حدیث نمبر: 3960
فَأَمَّا مَنْ أَقَامَ الإِسْنَادَ وَحَفِظَهُ وَغَيَّرَ اللَّفْظَ؛ فَإِنَّ هَذَا وَاسِعٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا لَمْ يَتَغَيَّرْ الْمَعْنَى.
تو جس نے سند صحیح ذکر کی اور اسے یاد رکھا، اور الفاظ میں تبدیلی کر دی تو معنی نہ بدلنے کی صورت میں ایسا کرنے کی اہل علم کے نزدیک گنجائش ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: 3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلائِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ قَالَ: إِذَا حَدَّثْنَاكُمْ عَلَى الْمَعْنَى؛ فَحَسْبُكُمْ.
واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں: جب ہم تم سے حدیث بالمعنی روایت کر دیں تو یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ الْحَدِيثَ مِنْ عَشَرَةٍ؛ اللَّفْظُ مُخْتَلِفٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ.
محمد بن سیرین کہتے ہیں: حدیث کو میں دس مختلف سیاق سے سنتا تھا اور سب کا معنی ایک ہوتا تھا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَالْحَسَنُ، وَالشَّعْبِيُّ يَأْتُونَ بِالْحَدِيثِ عَلَى الْمَعَانِي.
ابن عون کہتے ہیں: ابراہیم نخعی، حسن بصری اور شعبی بالمعنی حدیث روایت کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
وَكَانَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، وَرَجَائُ بْنُ حَيْوَةَ يُعِيدُونَ الْحَدِيثَ عَلَى حُرُوفِهِ.
اور قاسم بن محمد، محمد بن سیرین اور رجاء بن حیوہ حدیث کو اس کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ: إِنَّكَ تُحَدِّثُنَا بِالْحَدِيثِ، ثُمَّ تُحَدِّثُنَا بِهِ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثْتَنَا؟! قَالَ: عَلَيْكَ بِالسَّمَاعِ الأَوَّلِ.
عاصم الأحول کہتے ہیں: میں نے ابوعثمان نہدی سے کہا کہ آپ ہم سے ایک بار حدیث بیان کرتے ہیں، پھر دوبارہ اس کی روایت کرتے ہیں تو وہ پہلے سے مختلف ہوتی ہے؟ عرض کیا: جو پہلی بار سنا ہے اس کو لے لو۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا الجارودُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيْعٌ، عن الرَّبيعِ بن صَبيحٍ، عن الحسنِ قال: إذا أصبتَ المعنى أجزأكَ.
حسن بصری کہتے ہیں: معنی اگر ٹھیک روایت کر دو تو یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَيْفٍ -هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ- قَال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: أَنْقِصْ مِنْ الْحَدِيثِ إِنْ شِئْتَ، وَلا تَزِدْ فِيهِ.
سیف بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد کو کہتے سنا: اگر چاہو تو حدیث بیان کرنے میں کمی کر دو، لیکن اس میں زیادتی نہ کرو۔ (یعنی اپنی طرف سے اضافہ نہ کرو، مختصر روایت کرو، یا بعض فقرآت روایت کرو)۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فَقَالَ: إِنْ قُلْتُ لَكُمْ: إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ كَمَا سَمِعْتُ فَلا تُصَدِّقُونِي، إِنَّمَا هُوَ الْمَعْنَى.
سفیان ثوری کہتے ہیں: اگر میں یہ کہوں کہ میں تم سے بعینہ ویسے ہی روایت کرتا ہوں جیسے میں نے سنا ہے، تو میری تصدیق نہ کرو، یہ روایت بالمعنی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَال: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: إِنْ لَمْ يَكُنْ الْمَعْنَى وَاسِعًا فَقَدْ هَلَكَ النَّاسُ.
وکیع کہتے ہیں: اگر بالمعنی روایت کی گنجائش نہ ہو تو لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا تَفَاضَلَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحِفْظِ وَالإِتْقَانِ وَالتَّثَبُّتِ عِنْدَ السَّمَاعِ مَعَ أَنَّهُ لَمْ يَسْلَمْ مِنْ الْخَطَإِ وَالْغَلَطِ كَبِيرُ أَحَدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ مَعَ حِفْظِهِمْ.
ترمذی کہتے ہیں: اہل علم حفظ و اتقان اور سماع حدیث کی تحقیق و تحری میں متفاوت ہیں، قوت حفظ کے باوجود بڑے سے بڑا کوئی امام وہم و خطا اور غلطی سے بچا نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: إِذَا حَدَّثْتَنِي؛ فَحَدِّثْنِي عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ؛ فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي مَرَّةً بِحَدِيثٍ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ فَمَا أَخْرَمَ مِنْهُ حَرْفًا.
عمارہ بن قعقاع کہتے ہیں کہ مجھ سے ابراہیم نخعی نے کہا: جب آپ مجھ سے حدیث بیان کریں تو ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے بیان کریں، ابوزرعہ نے ایک بار مجھ سے ایک حدیث بیان کی پھر کئی سال کے بعد میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو ایک حرف بھی نہیں چھوڑا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: قُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ: مَا لِسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ أَتَمُّ حَدِيثًا مِنْكَ؟ قَالَ: لأَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ.
منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے کہا: سالم بن ابی الجعد آپ سے زیادہ بہتر طور پر کیوں احادیث روایت کرتے ہیں؟ کہا: اس لیے کہ وہ احادیث لکھتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا عَبْدُالْجَبَّارِ بْنُ الْعَلائِ بْنِ عَبْدِالْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ: إِنِّي لأُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ فَمَا أَدَعُ مِنْهُ حَرْفًا.
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں: میں حدیث بیان کرتا ہوں تو ایک حرف بھی نہیں چھوڑتا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَتَادَةُ: مَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ شَيْئًا قَطُّ إِلا وَعَاهُ قَلْبِي.
قتادہ کہتے ہیں: میرے کانوں نے جو کچھ سنا وہ دل میں بیٹھ گیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَنَصَّ لِلْحَدِيثِ مِنْ الزُّهْرِيِّ.
عمرو بن دینار کہتے ہیں: زہری سے زیادہ میں نے کسی کو نص حدیث کی روایت کرتے نہیں دیکھا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ: مَا عَلِمْتُ أَحَدًا كَانَ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْدَ الزُّهْرِيِّ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
ایوب سختیانی کہتے ہیں: میرے علم میں زہری کے بعد اہل مدینہ میں یحییٰ بن ابی کثیر سے بڑا حدیث کا کوئی عالم نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَوْنٍ يُحَدِّثُ فَإِذَا حَدَّثْتُهُ عَنْ أَيُّوبَ بِخِلافِهِ تَرَكَهُ فَأقُولُ: قَدْ سَمِعْتُهُ؛ فَيَقُولُ: إِنَّ أَيُّوبَ أَعْلَمُنَا بِحَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ.
حماد بن زید کہتے ہیں: ابن عون حدیث بیان کرتے تھے، جب میں ان کو ایوب سے اس کے خلاف روایت کرتا تو وہ اپنی روایت چھوڑ دیتے، میں کہتا کہ آپ نے وہ حدیث سنی ہے تو عرض کرتے: ایوب سختیانی ابن سیرین کی احادیث کے ہم میں سب سے زیادہ واقف کار تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَبُو بُكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: أَيُّهُمَا أَثْبَتُ: هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ أَمْ مِسْعَرٌ؟ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مِسْعَرٍ، كَانَ مِسْعَرٌ مِنْ أَثْبَتِ النَّاسِ.
علی بن المدینی کا قول ہے کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے سوال کیا: ہشام دستوائی زیادہ ثقہ اور معتبر ہیں، یا مسعر؟ کہا: میں نے مسعر کی طرح کسی کو نہیں دیکھا، لوگوں میں مسعر سب سے زیادہ ثقہ اور معتبر تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُالْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ قَال: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ: مَا خَالَفَنِي شُعْبَةُ فِي شَيْئٍ إِلا تَرَكْتُهُ.
حماد بن زید کہتے ہیں: جس حدیث میں بھی شعبہ نے میری مخالفت کی میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَدَّثَنِي أَبُوالْوَلِيدِ، قَالَ: قَالَ لِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: إِنْ أَرَدْتَ الْحَدِيثَ فَعَلَيْكَ بِشُعْبَةَ.
ابوالولید کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ نے کہا: اگر تمہیں حدیث چاہیئے تو شعبہ کا دامن پکڑ لو۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: مَا رَوَيْتُ عَنْ رَجُلٍ حَدِيثًا وَاحِدًا إِلا أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مَرَّةٍ، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ عَشَرَةَ أَحَادِيثَ أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ عَشْرِ مِرَارٍ، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ خَمْسِينَ حَدِيثًا أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِينَ مَرَّةً، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ مِائَةً أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ، إِلا حَيَّانَ الْكُوفِيَّ الْبَارِقِيَّ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ هَذِهِ الأَحَادِيثَ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ؛ فَوَجَدْتُهُ قَدْ مَاتَ.
شعبہ کہتے ہیں: میں نے جس راوی سے بھی ایک حدیث روایت کی، اس کے پاس ایک سے زیادہ بار آیا، اور جس سے دس حدیث روایت کی اس کے پاس دس بار سے زیادہ آیا، اور جس سے (۵۰) حدیث روایت کی اس کے پاس پچاس بار سے زیادہ آیا، اور جس سے سو حدیث روایت کی اس کے پاس سو بار سے زیادہ آیا، إلا یہ کہ حیان کوفی سے میں نے یہ احادیث سنیں، دوبارہ ان کے پاس گیا تو ان کی وفات ہو گئی تھی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ قَال: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ: شُعْبَةُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحَدِيثِ.
عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری کو کہتے سنا: شعبہ حدیث میں امیر المؤمنین ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ شُعْبَةَ، وَلا يَعْدِلُهُ أَحَدٌ عِنْدِي، وَإِذَا خَالَفَهُ سُفْيَانُ أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ.
علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان کو کہتے سنا: مجھے شعبہ سے زیادہ کوئی پسند نہیں ہے، میرے نزدیک ان کا ہم پلہ کوئی نہیں، جب ان کی مخالفت سفیان ثوری کرتے ہیں، تو میں سفیان ثوری کے قول کو قبول کرتا ہوں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
قَالَ عَلِيٌّ: قُلْتُ لِيَحْيَى: أَيُّهُمَا كَانَ أَحْفَظَ لِلأَحَادِيثِ الطِّوَالِ سُفْيَانُ أَوْ شُعْبَةُ قَالَ: كَانَ شُعْبَةُ؟ أَمَرَّ فِيهَا.
علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے کہا: لمبی احادیث کو سفیان ثوری زیادہ یاد رکھتے ہیں، یا شعبہ؟ کہا: شعبہ زیادہ یاد رکھتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3960 in Urdu