🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب ما جاء في القراءة في العيدين
باب: عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 533
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَيَقْرَأُ بِهِمَا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمِسْعَرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، وَأَمَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فَيُخْتَلَفُ عَلَيْهِ فِي الرِّوَايَةِ، يُرْوَى عَنْهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَلَا نَعْرِفُ لِحَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ رِوَايَةً عَنْ أَبِيهِ، وَحَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ هُوَ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ. وَرَوَى عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَحَادِيثَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ نَحْوُ رِوَايَةِ هَؤُلَاءِ، وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ بِ قَافٍ، وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ " وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيّ.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوواقد، سمرہ بن جندب اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اور اسی طرح سفیان ثوری اور مسعر نے بھی ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ابو عوانہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے،
۴- رہے سفیان بن عیینہ تو ان سے روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان کی ایک سند یوں ہے: «عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن حبيب بن سالم عن أبيه عن النعمان بن بشير» ‏‏‏‏ اور ہم حبیب بن سالم کی کسی ایسی روایت کو نہیں جانتے جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہو۔ حبیب بن سالم نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے نعمان بن بشیر سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور ابن عیینہ سے ابراہیم بن محمد بن منتشر کے واسطہ سے ان لوگوں کی طرح بھی روایت کی گئی ہے ۲؎ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ عیدین کی نماز میں «سورة ق» اور «اقتربت الساعة» پڑھتے تھے ۳؎ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن ابی داود/ الصلاة 242 (1122)، سنن النسائی/الجمعة 40 (1425)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 90 (1120)، و157 (1281)، موطا امام مالک/الجمعة 9 (19)، (تحفة الأشراف: 11612)، مسند احمد (4/270، 271، 277)، سنن الدارمی/الصلاة 203 (1609) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس سند میں حبیب بن سالم اور نعمان بن بشیر کے درمیان حبیب کے والد کا اضافہ ہے، جو صحیح نہیں ہے۔
۲؎: یعنی: بغیر «عن أبیہ» کے اضافہ کے، یہ روایت آگے آ رہی ہے۔
۳؎: اس میں کوئی تضاد نہیں، کبھی آپ یہ سورتیں پڑھتے اور کبھی وہ سورتیں، بہرحال ان کی قراءت مسنون ہے، فرض نہیں، لیکن ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کی طرح ان مسنون سورتوں کو پڑھے ہی نہیں۔ مسنون عمل کو بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر چھوڑنا سخت گناہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1119)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد اللهصحابي صغير
👤←👥حبيب بن سالم الأنصاري
Newحبيب بن سالم الأنصاري ← النعمان بن بشير الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن المنتشر الهمداني
Newمحمد بن المنتشر الهمداني ← حبيب بن سالم الأنصاري
ثقة
👤←👥إبراهيم بن محمد الهمداني
Newإبراهيم بن محمد الهمداني ← محمد بن المنتشر الهمداني
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← إبراهيم بن محمد الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1425
يقرأ في الجمعة بسبح اسم ربك الأعلى و هل أتاك حديث الغاشية وربما اجتمع العيد والجمعة فيقرأ بهما فيهما جميعا
سنن النسائى الصغرى
1569
كان يقرأ في العيدين ويوم الجمعة بسبح اسم ربك الأعلى هل أتاك حديث الغاشية وربما اجتمعا في يوم واحد فيقرأ بهما
سنن النسائى الصغرى
1591
يقرأ في الجمعة والعيد ب سبح اسم ربك الأعلى و هل أتاك حديث الغاشية وإذا اجتمع الجمعة والعيد في يوم قرأ بهما
صحيح مسلم
2028
يقرأ في العيدين وفي الجمعة ب سبح اسم ربك الأعلى و هل أتاك حديث الغاشية قال وإذا اجتمع العيد والجمعة في يوم واحد يقرأ بهما أيضا في الصلاتين
جامع الترمذي
533
يقرأ في العيدين وفي الجمعة ب سبح اسم ربك الأعلى و هل أتاك حديث الغاشية وربما اجتمعا في يوم واحد فيقرأ بهما
سنن أبي داود
1122
يقرأ في العيدين ويوم الجمعة ب سبح اسم ربك الأعلى و هل أتاك حديث الغاشية قال وربما اجتمعا في يوم واحد فقرأ بهما
سنن أبي داود
1123
ماذا كان يقرأ به رسول الله يوم الجمعة على إثر سورة الجمعة فقال كان يقرأ هل أتاك حديث الغاشية
سنن ابن ماجه
1281
كان يقرأ في العيدين ب سبح اسم ربك الأعلى و هل أتاك حديث الغاشية
المعجم الصغير للطبراني
1192
يقرأ في العيدين والجمعة ب سبح اسم ربك الأعلى
مسندالحميدي
949
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في العيد بسبح اسم ربك الأعلى، وهل أتاك حديث الغاشية، وكان يقرأ فيهما إذا وافق ذلك يوم الجمعة
مسندالحميدي
950
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 533 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 533
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی اس سند میں حبیب بن سالم اور نعمان بن بشیر کے درمیان حبیب کے والد کا اضافہ ہے،
جو صحیح نہیں ہے۔

2؎:
یعنی:
بغیر عن أبیہ کے اضافہ کے،
یہ روایت آگے آ رہی ہے۔

3؎:
اس میں کوئی تضاد نہیں،
کبھی آپ یہ سورتیں پڑھتے اور کبھی وہ سورتیں،
بہر حال ان کی قراءت مسنون ہے،
فرض نہیں،
لیکن ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کی طرح ان مسنون سورتوں کو پڑھے ہی نہیں۔
مسنون عمل کو بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر چھوڑنا سخت گنا ہ ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 533]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1425
نماز جمعہ میں سورتوں کی قرأت کے متعلق نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہو جاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1425]
1425۔ اردو حاشیہ:
➊ اگرچہ نماز جمعہ میں کوئی سی سورت بھی پڑھی جا سکتی ہے مگر مندرجہ بالا چار سورتیں مسنون و مستحب ہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے نماز جمعہ کی قرأت کے متعلق حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی روایات میں راویوں کے اختلاف کو ذکر کیا ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کی پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری میں سورۂ غاشیہ پڑھا کرتے تھے اور حبیب بن سالم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کی پہلی رکعت میں سورۂ اعلیٰ اور دوسری میں سورۂ غاشیہ پڑھا کرتے تھے۔ لیکن یہ اختلاف حدیث کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ یہ اختلاف صرف سورتوں کی تعیین میں ہے جس کی بابت علماء نے لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نماز جمعہ میں سورۂ اعلیٰ اور سورۂ غاشیہ اور کبھی سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھتے ہوں اور کبھی سورۂ جمعہ اور سورۂ غاشیہ۔ بنابریں کبھی سورۂ اعلیٰ اور سورۂ غاشیہ پڑھ لی جائیں اور کبھی جمعہ اور منافقون۔ انہیں آپس میں ملایا بھی جا سکتا ہے، مثلاً: سورۂ جمعہ اور سورۂ غاشیہ جیسا کہ حدیث نمبر 1424 میں بیان ہے۔
➋ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جمعے کے دن عید آ جائے تو عید بھی پڑھی جائے اور جمعہ بھی، خطیب اور قرب و جوار کے لوگوں کے لیے یہی افضل ہے، اگر وہ جمعے کی بجائے ظہر پڑھ لیں تو بھی جائز ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1425]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1569
عیدین میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «ہل أتاک حدیث الغاشیۃ» پڑھنے کا بیان۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے، اور کبھی یہ دونوں ایک ساتھ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے، تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1569]
1569۔ اردو حاشیہ: عیدین میں مقتدیوں یا موقع ومحل کا لحاظ رکھتے ہوئے دونوں حدیثوں میں سے کسی حدیث پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے اور یہ اولیٰ ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1569]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1591
عید اور جمعہ دونوں کے اکٹھا آ پڑنے اور ان میں حاضر ہونے کا بیان۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ اور عید دونوں میں «سبح اسم ربك الأعلى‏» اور «هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے، اور جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے تو بھی آپ انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1591]
1591۔ اردو حاشیہ: گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازیں پڑھاتے تھے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے پیچھے دونوں نمازیں پڑھتے تھے کیونکہ دونوں مختلف نمازیں ہیں۔ اوقات مختلف ہیں۔ ہیئت میں بھی فرق ہے۔ ایک نفل ہے دوسری فرض۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ عید کا خطبہ جمعے کے خطبے سے کفایت کر جائے گا اور جمعے کی جگہ اصل نماز، یعنی ظہر پڑھی جا سکتی ہے، گویا عید والے دن جمعے کے بجائے ظہر پڑھ لی جائے تو درست ہے مگر یہ انفرادی طور پر ہو سکتا ہے، اجتماعی طور پر جمع ہی پڑھا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سنت ہے۔ آئندہ حدیث میں رخصت کو انفراد پر محمول کیا جائے گا، نیز یہ رخصت قرب و جوار میں رہنے والے یا دور سے آنے والے سب لوگوں کے لیے یکساں ہے۔ دونوں قسم کے لوگ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں کیونکہ حدیث عام ہے۔ کسی فرد کی تخصیص نہیں۔ واللہ اعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1591]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:949
949- سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان اس روایت میں غلطی کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں سورہ الاعلیٰ اور سورہ الغاشیہ کی تلاوت کی تھی۔ جب جمعے کے دن عید آئی تھی اس دن بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دو سورتوں کی تلاوت کی تھی۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:949]
فائدہ:
اس سے ثابت ہوا کہ نماز عید اور نماز جمعہ میں سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیہ کی قرٱت کرنی چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 949]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2028
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَ‌بِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ پڑھتے تھے اور اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن اکھٹے ہو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازوں میں ہی انہیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2028]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان دو صورتوں کے پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں انسان کے لیے درس عبرت ہے۔
سورہ اعلیٰ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج اور ترتیب ہے۔
اس لیے اپنے رب پر بھروسہ رکھو جلد وہ وقت آئے گا جب تمہاری محنت وکوشش بارآور ہو گی اور تمہاری سعی بامراد ہو گی۔
پیغمبر اور مبلغ کا کام سنانا ہے اور سنیں گے صرف وہی لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور کامیابی انہیں خوش بختوں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے آپ کو پاک کیا۔
اپنے رب کو یاد کیا اورنماز پڑھی جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی لذت کو جوعارضی اور فانی ہے۔
آخرت پر جو بہتر اور پائیدار ہے ترجیح دیتے ہیں۔
وہ کامیابی اور کامرانی سے ہم کنار نہیں ہو سکتے۔
دین کی پابندی ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔
اور سورہ غاشیہ میں بتایا گیا ہے جو لوگ قیامت سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔
ان کو قیامت کے دن کن حالات سے سابقہ پیش آئے گا اور جو لوگ قیامت سے ڈرتے ہوئے زندگی گزار دیں گے۔
ان کو کس قسم کی کامیابی نصیب ہو گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2028]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 533 in Urdu