🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب ما جاء في إفطار الصائم المتطوع
باب: نفلی روزے کے توڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 732
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ، يَقُولُ: أَحَدُ ابْنَيْ أُمِّ هَانِئٍ، حَدَّثَنِي فَلَقِيتُ أَنَا أَفْضَلَهُمَا، وكانت أم هانئ جدته، فَحَدَّثَنِي، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَى بِشَرَابٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ ". قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ: لَا، أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ وَأَهْلُنَا، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ. وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، فَقَالَ: عَنْ هَارُونَ بْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَحْسَنُ، هَكَذَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، فَقَالَ: أَمِينُ نَفْسِهِ، وحَدَّثَنَا غَيْرُ مَحْمُودٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، فَقَالَ: أَمِيرُ نَفْسِهِ أَوْ أَمِينُ نَفْسِهِ عَلَى الشَّكِّ، وَهَكَذَا رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ شُعْبَةَ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ عَلَى الشَّكِّ. قَالَ: وَحَدِيثُ أُمِّ هَانِئٍ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ إِذَا أَفْطَرَ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُحِبَّ أَنْ يَقْضِيَهُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَالشَّافِعِيِّ.
شعبہ کہتے ہیں کہ میں سماک بن حرب کو کہتے سنا کہ ام ہانی رضی الله عنہا کے دونوں بیٹوں میں سے ایک نے مجھ سے حدیث بیان کی تو میں ان دونوں میں جو سب سے افضل تھا اس سے ملا، اس کا نام جعدہ تھا، ام ہانی اس کی دادی تھیں، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کی دادی کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے تو آپ نے کوئی پینے کی چیز منگائی اور اسے پیا۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے بھی پیا۔ پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امین ہے، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: کیا آپ نے اسے ام ہانی سے سنا ہے؟ کہا: نہیں، مجھے ابوصالح نے اور ہمارے گھر والوں نے خبر دی ہے اور ان لوگوں نے ام ہانی سے روایت کی۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کی ہے۔ اس میں ہے ام ہانی کی لڑکی کے بیٹے ہارون سے روایت ہے، انہوں نے ام ہانی سے روایت کی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے، اس میں «أمين نفسه» ہے، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے «أمير نفسه أو أمين نفسه» شک کے ساتھ کہا۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی «أمين أو أمير نفسه» شک کے ساتھ وارد ہے۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔
۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے۔ یہی سفیان ثوری، احمد، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 18001) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہی جمہور کا قول ہے، ان کی دلیل ام ہانی کی روایت ہے جس میں ہے «فإن شئت فأقضى وإن شئت فلا تقضى» نیز ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت ہے جس میں ہے «أفطر فصم مكانه إن شئت» یہ دونوں روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نفل روزہ توڑ دینے پر قضاء لازم نہیں، حنفیہ کہتے ہیں کہ قضاء لازم ہے، ان کی دلیل عائشہ و حفصہ رضی الله عنہما کی روایت ہے جو ایک باب کے بعد آ رہی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح تخريج المشكاة (2079) ، صحيح أبي داود (2120)
قال الشيخ زبير على زئي:(732) إسناده ضعيف
أبو صالح باذام: ضعيف (د 3236) وانظر الحديث السابق : 731
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فاختة بنت أبي طالب الهاشمية، أم هانئصحابية
👤←👥هارون ابن أم هانئ
Newهارون ابن أم هانئ ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية
مجهول
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← هارون ابن أم هانئ
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← سماك بن حرب الذهلي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥فاختة بنت أبي طالب الهاشمية، أم هانئ
Newفاختة بنت أبي طالب الهاشمية ← حماد بن سلمة البصري
صحابية
👤←👥باذام الكوفي، أبو صالح
Newباذام الكوفي ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية
ضعيف الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← باذام الكوفي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥فاختة بنت أبي طالب الهاشمية، أم هانئ
Newفاختة بنت أبي طالب الهاشمية ← شعبة بن الحجاج العتكي
صحابية
👤←👥جعدة المخزومي
Newجعدة المخزومي ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية
ضعيف الحديث
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← جعدة المخزومي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← أبو داود الطيالسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
732
الصائم المتطوع أمين نفسه إن شاء صام وإن شاء أفطر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 732 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 732
اردو حاشہ:
1؎:
یہی جمہور کا قول ہے،
ان کی دلیل ام ہانی کی روایت ہے جس میں ہے ((فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِي وَإِنْ شِئْتِ فلا تَقْضِي)) نیز ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس میں ہے ((أَفْطِرْ فَصُمْ مَكَانَه إِنْ شِئْت)) یہ دونوں روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نفل روزہ توڑ دینے پر قضا لازم نہیں،
حنفیہ کہتے ہیں کہ قضا لازم ہے،
ان کی دلیل عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہما کی روایت ہے جو ایک باب کے بعد آ رہی ہے،
لیکن وہ ضعیف ہے۔

نوٹ:
(سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 732]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 732 in Urdu