پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
88. باب ما جاء في العمرة أواجبة هي أم لا
باب: کیا عمرہ واجب ہے یا واجب نہیں ہے؟
حدیث نمبر: 931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ؟ قَالَ: " لَا، وَأَنْ تَعْتَمِرُوا هُوَ أَفْضَلُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: الْعُمْرَةُ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ. وَكَانَ يُقَالُ: هُمَا حَجَّانِ: الْحَجُّ الْأَكْبَرُ يَوْمُ النَّحْرِ، وَالْحَجُّ الْأَصْغَرُ الْعُمْرَةُ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: الْعُمْرَةُ سُنَّةٌ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَخَّصَ فِي تَرْكِهَا، وَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ ثَابِتٌ بِأَنَّهَا تَطَوُّعٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ، وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يُوجِبُهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: كُلُّهُ كَلَامُ الشَّافِعِيِّ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرے کے بارے میں پوچھا گیا: کیا یہ واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن عمرہ کرنا بہتر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ واجب نہیں ہے،
۳- اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حج دو ہیں: ایک حج اکبر ہے جو یوم نحر (دسویں ذی الحجہ کو) ہوتا ہے اور دوسرا حج اصغر ہے جسے عمرہ کہتے ہیں،
۴- شافعی کہتے ہیں: عمرہ (کا وجوب) سنت سے ثابت ہے، ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے چھوڑنے کی اجازت دی ہو۔ اور اس کے نفل ہونے کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس سند سے (نفل ہونا) مروی ہے وہ ضعیف ہے۔ اس جیسی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی، اور ہم تک یہ بات بھی پہنچی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما اسے واجب قرار دیتے تھے۔ یہ سب شافعی کا کلام ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 931]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ واجب نہیں ہے،
۳- اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حج دو ہیں: ایک حج اکبر ہے جو یوم نحر (دسویں ذی الحجہ کو) ہوتا ہے اور دوسرا حج اصغر ہے جسے عمرہ کہتے ہیں،
۴- شافعی کہتے ہیں: عمرہ (کا وجوب) سنت سے ثابت ہے، ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے چھوڑنے کی اجازت دی ہو۔ اور اس کے نفل ہونے کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس سند سے (نفل ہونا) مروی ہے وہ ضعیف ہے۔ اس جیسی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی، اور ہم تک یہ بات بھی پہنچی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما اسے واجب قرار دیتے تھے۔ یہ سب شافعی کا کلام ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3011) (ضعیف الإسناد) (سند حجاج بن ارطاة کثیرالارسال والتدلیس ہیں)»
وضاحت: ۱؎: اس سے حنفیہ اور مالکیہ نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے لائق استدلال نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(931) إسناده ضعيف
حجاج بن أرطا ضعيف (تقدم:527)
حجاج بن أرطا ضعيف (تقدم:527)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
931
| العمرة أواجبة هي قال لا وأن تعتمروا هو أفضل |
المعجم الصغير للطبراني |
458
| العمرة واجبة فريضتها كفريضة الحج فقال وأن تعتمر خير لك |
بلوغ المرام |
581
| العمرة اواجبة هي؟ فقال: لا، وان تعتمر خير لك |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 931 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 931
اردو حاشہ: 1؎:
اس سے حنفیہ اورمالکیہ نے اس با ت پر استدلال کیا ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے،
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے لائق استدلال نہیں۔
نوٹ:
(سند حجاج بن ارطاۃ کثیرالارسال والتدلیس ہیں)
اس سے حنفیہ اورمالکیہ نے اس با ت پر استدلال کیا ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے،
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے لائق استدلال نہیں۔
نوٹ:
(سند حجاج بن ارطاۃ کثیرالارسال والتدلیس ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 931]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 581
حج کی فضیلت و فرضیت کا بیان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بدوی حاضر ہوا تو اس نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے عمرہ کے بارے بتلائیے کہ کیا یہ واجب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں اگر تو عمرہ کرے تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔“ اسے احمد و ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کا موقوف ہونا راجح ہے اور امام ابن عدی نے ایک اور ضعیف سند سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ”حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 581]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بدوی حاضر ہوا تو اس نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے عمرہ کے بارے بتلائیے کہ کیا یہ واجب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں اگر تو عمرہ کرے تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔“ اسے احمد و ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کا موقوف ہونا راجح ہے اور امام ابن عدی نے ایک اور ضعیف سند سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ”حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 581]
581 لغوی تشریح:
«وَالرَّاجِحُ وَقْفُهُ» راجح بات یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے اور یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ انہی سے ایک بدو نے سوال کیا اور انہوں نے اسے یہ جواب دیا۔ اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ [سبل السلام]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت راوی کا وہم ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی سند بھی ضعیف اور ناقابل استدلال ہے جس کی تفصیل تحفتہ الاحوذی (ج2، ص113) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
«مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضِعِفٍ» ایک اور ضعیف سند سے مروی ہے کیونکہ وہ عبداللہ بن لہیعہ عن عطاء عن جابر کی سند سے مروی ہے، اور ابن لہیعہ اس میں کمزور ہے۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ عطاء سے غیر محفوظ ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہی روایت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کی ہے مگر اس میں اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف ہے اور ابن سیرین کا حضرت زید رضی اللہ عنہ سے سماع بھی نہیں ہے۔ اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے ایک اور سند سے ابن سیرین سے موقوف روایت کیا ہے اس کی سند پہلی سے زیادہ صحیح ہے۔ [سبل السلام]
عمرے کے متعلق دلائل کے اختلاف کی وجہ سے اس کے وجوب اور عدم وجوب کے بارے میں اختلاف ہے۔ راجح بات یہی ہے کہ یہ واجب ہے۔ حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم، امام شافعی، امام احمد اور امام بخاری رحمها اللہ وغیرہ اس کے قائل ہیں۔
«وَالرَّاجِحُ وَقْفُهُ» راجح بات یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے اور یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ انہی سے ایک بدو نے سوال کیا اور انہوں نے اسے یہ جواب دیا۔ اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ [سبل السلام]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت راوی کا وہم ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی سند بھی ضعیف اور ناقابل استدلال ہے جس کی تفصیل تحفتہ الاحوذی (ج2، ص113) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
«مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضِعِفٍ» ایک اور ضعیف سند سے مروی ہے کیونکہ وہ عبداللہ بن لہیعہ عن عطاء عن جابر کی سند سے مروی ہے، اور ابن لہیعہ اس میں کمزور ہے۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ عطاء سے غیر محفوظ ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہی روایت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کی ہے مگر اس میں اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف ہے اور ابن سیرین کا حضرت زید رضی اللہ عنہ سے سماع بھی نہیں ہے۔ اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے ایک اور سند سے ابن سیرین سے موقوف روایت کیا ہے اس کی سند پہلی سے زیادہ صحیح ہے۔ [سبل السلام]
عمرے کے متعلق دلائل کے اختلاف کی وجہ سے اس کے وجوب اور عدم وجوب کے بارے میں اختلاف ہے۔ راجح بات یہی ہے کہ یہ واجب ہے۔ حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم، امام شافعی، امام احمد اور امام بخاری رحمها اللہ وغیرہ اس کے قائل ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 581]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 931 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري