🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء في ثواب المريض
باب: بیمار کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا حَزَنٍ وَلَا وَصَبٍ حَتَّى الْهَمُّ يَهُمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ، قَالَ: وسَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: لَمْ يُسْمَعْ فِي الْهَمِّ أَنَّهُ يَكُونُ كَفَّارَةً إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کو جو بھی تکان، غم، اور بیماری حتیٰ کہ فکر لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں یہ حدیث حسن ہے،
۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «عطاء بن يسار عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے،
۳- وکیع کہتے ہیں: اس حدیث کے علاوہ کسی حدیث میں «همّ» فکر کے بارے میں نہیں سنا گیا کہ وہ بھی گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المرضی 1 (5641، 5642)، صحیح مسلم/البروالصلة 14 (2573)، (تحفة الأشراف: 4165)، مسند احمد (3/4، 24، 38) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ مومن کو دنیا میں جو بھی آلام و مصائب پہنچتے ہیں اللہ انہیں اپنے فضل سے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے، لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب مومن صبر کرے، اور اگر وہ صبر کے بجائے بے صبری کا مظاہرہ اور تقدیر کا رونا رونے لگے تو وہ اس اجر سے تو محروم ہو ہی جائے گا، اور خطرہ ہے کہ اسے مزید گناہوں کا بوجھ نہ اٹھانا پڑ جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، الصحيحة (2503)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← عطاء بن يسار الهلالي
صحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو العامري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو العامري ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد
Newأسامة بن زيد الليثي ← محمد بن عمرو العامري
صدوق يهم كثيرا
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← أسامة بن زيد الليثي
ثقة حافظ إمام
👤←👥سفيان بن وكيع الرؤاسي، أبو محمد
Newسفيان بن وكيع الرؤاسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
مقبول
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5642
ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا أذى ولا غم حتى الشوكة يشاكها إلا كفر الله بها من خطاياه
صحيح مسلم
6568
ما يصيب المؤمن من وصب ولا نصب ولا سقم ولا حزن حتى الهم يهمه إلا كفر به من سيئاته
جامع الترمذي
966
ما من شيء يصيب المؤمن من نصب ولا حزن ولا وصب حتى الهم يهمه إلا يكفر الله به عنه سيئاته
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 966 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 966
اردو حاشہ: 1؎:
مطلب یہ ہے کہ مومن کودنیامیں جوبھی آلام ومصائب پہنچتے ہیں اللہ انہیں اپنے فضل سے اس کے گناہوں کاکفارہ بنادیتاہے،
لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب مومن صبرکرے،
اور اگروہ صبرکے بجائے بے صبری کا مظاہرہ اورتقدیرکا رونا رونے لگے تو وہ اس اجرسے تومحروم ہوہی جائے گا،
اورخطرہ ہے کہ اسے مزید گناہوں کا بوجھ نہ اٹھانا پڑجائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 966]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6568
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"مسلمان کو جو مرض ہویاتھکاوٹ،تکلیف ہویا پریشانی یا غم جو اس کوفکر میں مبتلا کرے اس کے سبب اس کی بُرائیاں مٹتی ہیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6568]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
وصب:
مرض۔
(2)
نصب:
تکان۔
(3)
سقم،
بیماری۔
(4)
حزن:
پریشانی۔
(5)
هم:
فکر و اندیشہ جو اذیت کا باعث بنے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6568]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5642
5642. حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مسلمان کو جو بھی پریشانی، بیماری، رنج و ملال، تکیلف اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ اسے کوئی کاٹنا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالٰی اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5642]
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث کا سبب ورود یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت اچانک تکلیف ہوئی تو آپ شدت درد کی وجہ سے بستر پر کروٹیں لینے لگے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:
اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اس طرح کرتا تو آپ ناراض ہو جاتے۔
اس وقت آپ نے فرمایا:
صالحین کو مصائب و آلام سے دوچار کیا جاتا ہے۔
(مسند أحمد: 159/6, 160)
ابن حبان کی ایک روایت میں ہے کہ تکلیف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بھی بلند کرتا ہے۔
(صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان: 167/7، رقم: 2906) (2)
اس کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف، رفع عقاب اور حصول ثواب دونوں کا سبب بن جاتی ہے۔
بہرحال اگر انسان کو تکلیف آئے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، اور اگر اسے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر برداشت کرے تو حصول ثواب کا بھی باعث ہے۔
(فتح الباري: 131/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5642]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 966 in Urdu