🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
درود کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
268- مالك عن نعيم بن عبد الله المجمر أن محمد بن عبد الله بن زيد الأنصاري، وعبد الله بن زيد هو الذى كان رأى النداء بالصلاة، أخبره عن أبى مسعود الأنصاري أنه قال: أتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فى مجلس سعد بن عبادة، فقال له بشير بن سعد: أمرنا الله أن نصلي عليك يا رسول الله، فكيف نصلي عليك؟ قال: فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تمنينا أنه لم يسأله، ثم قال: ”قولوا: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على آل إبراهيم، وبارك على محمد، وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم، فى العالمين إنك حميد مجيد، والسلام كما قد علمتم.“
سیدنا ابومسعود الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے، پس ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے حتیٰ کہ ہماری یہ خواہش ہوئی کہ (کاش) انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ) سوال نہ کیا ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود بھیج جیسا کہ تو نے آل ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر برکتیں نازل فرما جیسا کہ تو نے آلِ ابراہیم علیہ السلام پر برکتیں نازل فرمائیں اور سلام (التحیات) اسی طرح ہے جیسا کہ تم نے جان لیا ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «268- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 165/1، 166 ح 397، ك 9 ب 22 ح 67) التمهيد 183/16، الاستذكار: 367، وأخرجه مسلم (405) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
 
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1286
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد والسلام كما علمتم
سنن النسائى الصغرى
1287
اللهم صل على محمد كما صليت على آل إبراهيم اللهم بارك على محمد كما باركت على آل إبراهيم
صحيح مسلم
907
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد والسلام كما قد علمتم
جامع الترمذي
3220
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد والسلام كما قد علمتم
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
126
للهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على آل إبراهيم، وبارك على محمد، وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم، فى العالمين إنك حميد مجيد
موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم کی حدیث نمبر 126 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،موطا امام مالك رواية ابن القاسم 126
تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 405، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ در ود کا جو بھی صیغہ حدیث سے ثابت ہے وہ پڑھنا مسنون اور مشروع ہے۔
➋ نماز کے آخری تشہد میں درود پڑھنا واجب اور پہلے تشہد میں بہتر ومستحب ہے۔
➌ عام طور پر نماز میں جو درود پڑھا جاتا ہے وہ درج ذیل ہے:۔
«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اس کا ثبوت [صحيح بخاري 3370] اور [سنن الكبريٰ للبيهقي 148/2ح 2856 وسنده صحيح] میں ہے۔
➍ آل سے مراد اہل بیت مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اور آل علی وغیرہ بھی ہیں اور کتاب وسنت کی اتباع کرنے والی امت بھی اس میں شامل ہے لیکن یہاں آل سے مراد اہل و اتباع ہیں۔
➎ قرآن مجید میں سورۃ الاحزاب (56) میں جس درود پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد نماز میں درج بالا اور دوسرے مسنون درود پڑھنا ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ ساری زندگی میں ایک دفعہ درود پڑھنا واجب ہے۔ علماء کا یہ قول مرجوح ہے اور راجح یہی ہے کہ ہر نماز میں درود پڑھنا فرض ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 268]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، 3220
سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ سے بشیر بن سعد نے کہا: اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ تو ہم کیسے آپ پر صلاۃ (درود) بھیجیں، راوی کہتے ہیں: آپ (یہ سن کر) خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم سوچنے لگے کہ انہوں نے نہ پوچھا ہوتا تو ہی ٹھیک تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم في العالمين ... (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3220]
اردو حاشہ:
مؤلف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (الأحزاب: 56) کے تفسیرمیں ذکر کی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3220]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، 1286
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کے حکم کا بیان۔
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی بیٹھک میں ہمارے پاس تشریف لائے، تو آپ سے بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر کیسے صلاۃ (درود) بھیجیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہماری یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش انہوں نے آپ سے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اور سلام بھیجنا تو تم جانتے ہی ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1286]
اردو حاشیہ:
حکم دیا گیا ہے۔ صحابہ کا آپ سے درود کے بارے میں اس طرح سوال کرنا اور سوال و جواب میں سلام کا حوالہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سوال نماز کے بارے میں تھا کیونکہ سلام تو نماز ہی میں واجب ہے۔
➋ آل سے مراد آپ کے مسلم قریبی رشتہ دار یا متبعین، یعنی صحابہ یا کل امت ہے۔ یہ لفظ ان تینوں معانی میں استعمال ہوا ہے۔
➌ درود میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حوالہ یا تو اس لیے ہے کہ وہ آپ کے جد امجد ہیں یا اس کے لیے کہ تمام آسمانی مذاہب (اسلام، یہودیت، عیسائیت) انہیں اپنا امام مانتے ہیں۔
➍ آپ نے جو بھی درود سکھایا اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حوالہ ضرور ہے، اس لیے جمیع امت کا اتفاق ہے کہ ہر قسم کی نماز میں درود ابراہیمی ہی پڑھا جائے گا۔ نماز کے علاوہ بھی ابراہیمی درود ہی بہتر ہے اگرچہ کوئی اور درود بھی، جو حدیث سے ثابت ہو، پڑھا جا سکتا ہے۔
➎ تمام جہانوں سے مراد دنیا و آخرت دونوں ہیں۔
➏ اس حدیث مبارکہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عجز و انکسار اور خصائل حمیدہ کا پتہ چلتا ہے، آپ اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا احترام کرتے تھے اور ان سے اپنائیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پاس تشریف لے جاتے تھے۔
➐ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اگر کوئی شرعی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ اپنی طرف سے شریعت سازی نہیں کرتے تھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے تھے، اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ اگر ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو قرآن و سنت سے رہنمائی لیں، اپنے اجتہادات اور قیاس آرائیوں کی طرف سبقت نہ کریں۔
➑ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی سائل سوال کرتا اور اس کا جواب ابھی تک اللہ نے آپ کو بتایا نہ ہوتا تو آپ وحی کا انتظار کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىo إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى» [النجم: 3: 53، 4] اور وہ (اپنی) خواہش سے نہیں بولتا۔ وہ وحی ہی تو ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
➒ اس حدیث مبارکہ سے دوسرے انبیاء پر صلاۃ (درود) پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1286]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل،ترمذی 3220
کیا تشہد کے بعد درود پڑھنا فرض ہے؟
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!
«أمرنا الله أن نصلى عليك فكيف نصلي عليك؟»
اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ (یعنی «صَلُّوا عَلَيْهِ وسلموا تَسْلِيمًا» ) لٰہذا ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں؟ کچھ توقف کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح کہا کرو:
«اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد»
اور آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور سلام اُسی طرح ہے جیسا کہ تمہیں علم ہے۔
[مسلم: 405، كتاب الصلاة: باب الصلاة على النبى بعد التشهد، أبو داود: 980، أحمد: 273/5، ترمذي: 3220، نسائي: 45/3، موطا: 165/1، دارقطني: 354/1، حاكم: 268/1]
صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ سائل نے کہا:
«فكيف نـصـلـي عليك إذا نحن صلينا عليك فى صلاتنا؟»
جب ہم اپنی نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں تو کس طرح بھیجیں۔
(امیر صنعانیؒ) یہ حدیث دوران نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کے وجوب کی دلیل ہے۔ [سبل السلام: 448/1]
علاوہ ازیں علماء نے نماز میں درود کے حکم میں اختلاف کیا ہے۔
(شافعیؒ، احمدؒ) تشہد کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا واجب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ، امام شعمیؒ، امام اسحاقؒ اور قاضی ابو بکر ابن عربیؒ وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔
(جمہور، مالکؒ، ابو حنیفہؒ) واجب نہیں ہے۔ امام ثوریؒ، امام اوزاعیؒ، امام طبریؒ اور امام طحاویؒ وغیرہ بھی اسی موقف کو ترجیح دیتے ہیں۔
[شرح المهذب: 447/3، الأم: 228/1، الحاوى للماوردي: 137/2، روضة الطالبين: 370/1، المبسوط: 29/1، كشاف القناع: 359/1، سبل السلام: 271/1]
(شوکانیؒ) تشہد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا واجب نہیں ہے۔ [السيل الجرار: 22/1، نيل الأوطار: 199/2]
(صدیق حسن خانؒ) عام اہل علم کا یہی موقف ہے کہ یہ واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ [الروضة الندية: 251/1]
(راجح) گذشتہ ابو مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث اور مندرجہ ذیل حدیث وجوب کے قائل حضرات کے لیے ترجیح کا باعث ہے۔
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی نماز میں اس طرح دعا کرتے سنا، کہ نہ تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے جلدی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور سمجھایا کہ
«إذا صلى أحدكم فليبدأ بتحميد ربه والثناء عليه ثم يصلى على النبى صلى الله عليه وسلم ثم يدعو بما شاء»
تم میں سے کوئی جب دعا مانگنے لگے تو پہلے اسے اپنے رب کی حمد و ثناء کرنی چاہیے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیجنا چاہیے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے.
[صحيح: صحيح أبو داود: 1314، كتاب الصلاة: باب الدعاء، أبو داود: 1481، ترمذي: 3477، نسائي: 1284، ابن خزيمة: 710، بيهقي: 147/2، ابن حبان: 1960، أحمد: 18/6]
(البانیؒ) وجوب کا قول برحق ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ان الفاظ میں درود پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ «يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا» پھر صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس درود کے متعلق دریافت کیا جسے پڑھنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معروف درود ابراہیمی کے الفاظ سکھا دیے.... صحابہ نے آیت سے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا حکم تشہد کے بعد ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں اسی پر قائم رکھا اور وہ ہمیشہ اسی پر عمل کرتے رہے حالانکہ ان کے درمیان وحی نازل ہو رہی تھی اور ہم نے یہ چیز ان کے تواتر عمل سے حاصل کی ہے۔ صحابہ کا سوال اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے لیے وضاحت کرنا پھر صحابہ کا اُس (عمل) پر دوام جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا قرآن میں وارد حکم کی تفسیر ہے اور یہ (دلیل) وجوب (کے اثبات کے) قوی دلائل میں سے ہے۔ [التعليقات الرضية على الروضة الندية: 272/1، صفة صلاة النبى للألباني: ص/ 181-182]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 394]

Moata Imam Malik (Qasim) Hadith 126 in Urdu