🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نماز کی قرأت میں اعتدال ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
490- مالك عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي عن أبى حازم التمار عن البياضي: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج على الناس وهم يصلون، وقد علت أصواتهم بالقراءة، فقال: ”إن المصلي مناج ربه، فلينظر ما يناجيه به، ولا يجهر بعضكم على بعض بالقرآن.“
البیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آئے اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ لوگوں کی آوازیں قرأت کی وجہ سے بلند تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، لہٰذا اسے دیکھنا چاہئیے کہ وہ کیا سرگوشی کرتا ہے اور ایک دوسرے پر جہر کے ساتھ قرآن نہ پڑھو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «490- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 80/1 ح 174، ك 3 ب 6 ح 29) التمهيد 315/23، الاستذكار: 153، و أخرجه أحمد (344/4) من حديث مالك به وصححه ابن عبدالبر وللحديث شاهد عند ابي داود (1332) وسنده صحيح.»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

Moata Imam Malik (Qasim) Hadith 142 in Urdu