علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
غلط افوہوں کی مذمت
حدیث نمبر: 485
442- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا سمعت الرجل يقول: هلك الناس، فهو أهلكهم.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «442- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 984/2 ح 1911، ك 56 ب 1 ح 2) التمهيد 242/21، الاستذكار: 1847، و أخرجه مسلم (2623) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم کی حدیث نمبر 485 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 485
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 2623، من حديث ما لك به .]
تفقه:
➊ بعض لوگ دوسرے لوگوں کو خوامخواہ اور حقارت سے برا کہتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتے، یہ انتہائی بری حرکت ہے۔
➋ شرعی دلیل کے بغیر کسی پر جرح نہیں کرنی چا ہے لیکن یادر ہے کہ مجہول کی روایت مردود ہوتی ہے۔
➌ لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں کرانا چاہئے۔ اللہ کے عذاب کے ڈرانے اور اس کی رحمت سے مایوس کرنے میں فرق ہے۔
➍ اس حدیث سے کفار کی مروجہ رسم اپریل فول کا رد بھی ہوتا ہے، جو اب بڑی تیزی کے ساتھ جاہل مسلمانوں میں پھیلتی جا رہی ہے۔
[وأخرجه مسلم 2623، من حديث ما لك به .]
تفقه:
➊ بعض لوگ دوسرے لوگوں کو خوامخواہ اور حقارت سے برا کہتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتے، یہ انتہائی بری حرکت ہے۔
➋ شرعی دلیل کے بغیر کسی پر جرح نہیں کرنی چا ہے لیکن یادر ہے کہ مجہول کی روایت مردود ہوتی ہے۔
➌ لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں کرانا چاہئے۔ اللہ کے عذاب کے ڈرانے اور اس کی رحمت سے مایوس کرنے میں فرق ہے۔
➍ اس حدیث سے کفار کی مروجہ رسم اپریل فول کا رد بھی ہوتا ہے، جو اب بڑی تیزی کے ساتھ جاہل مسلمانوں میں پھیلتی جا رہی ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 442]
Moata Imam Malik (Qasim) Hadith 485 in Urdu