شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
کھانے کے لئے ڈائنگ ٹیبل کا استعمال
حدیث نمبر: 146
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «مَا أَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرَّجَةٍ، وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ» قَالَ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: «عَلَى هَذِهِ السُّفَرِ» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: «يُونُسُ هَذَا الَّذِي رَوَى عَنْ قَتَادَةَ هُوَ يُونُسُ الْإِسْكَافُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا تناول نہیں فرمایا۔ اور نہ ہی چھوٹی طشتریوں میں کھانا کھایا، اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے باریک آٹے کی روٹی (نان) بنایا گیا (راوی حدیث یونس اپنے استاد قتادہ کے متعلق فرماتے ہیں)۔ میں نے قتادہ سے عرض کیا کہ وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کھانا کس چیز پر رکھ کر تناول فرماتے تھے، انہوں نے فرمایا: عام دستر خوان پر۔ محمد بن بشار فرماتے ہیں کہ اس روایت کے ایک راوی یونس جو قتادہ سے روایت کرتے ہیں وہ یونس اسکاف (موچی) ہیں۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة خبز رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن ترمذي: 1788، وقال: حسن غريب . صحيح بخاري: 5384 .» نیز دیکھئیے آنے والی حدیث: 149
فائدہ: روایت مذکورہ میں قتادہ کے سماع کی تصریح نہیں ملی، لیکن صحیحین میں مدلسین کی تمام روایات سماع یا معتبر متابعات پر محمول ہونے کی وجہ سے صحیح ہیں۔
«سنن ترمذي: 1788، وقال: حسن غريب . صحيح بخاري: 5384 .» نیز دیکھئیے آنے والی حدیث: 149
فائدہ: روایت مذکورہ میں قتادہ کے سماع کی تصریح نہیں ملی، لیکن صحیحین میں مدلسین کی تمام روایات سماع یا معتبر متابعات پر محمول ہونے کی وجہ سے صحیح ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح