شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سماع قرآن کے وقت رونا
حدیث نمبر: 322
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ عَلَيَّ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ: «إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي» ، فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ، حَتَّى بَلَغْتُ {وَجِئِنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: 41] قَالَ: فَرَأَيْتُ عَيْنَيْ رَسُولِ اللَّهِ تَهْمِلَانِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوا ہے پھر بھی کیا میں آپ پر پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میں کسی دوسرے شخص سے قرآن سننا چاہتا ہوں۔“ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں نے سورۃ النساء پڑھنا شروع کی اور جب «وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» پر پہنچا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى بكاء رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 322]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 3025)، صحيح بخاري (4582)، صحيح مسلم (800)»
«(سنن ترمذي: 3025)، صحيح بخاري (4582)، صحيح مسلم (800)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Shamail al-Tirmidhi Hadith 322 in Urdu