Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
صلٰوۃ کسوف میں گریہ زاری کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكسفَتِ الشَّمْسُ يَوْمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، حَتَّى لَمْ يَكَدْ يَرْكَعُ ثُمَّ رَكَعَ، فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَلَمْ يَكَدْ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَلَمْ يَكَدْ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ وَيَبْكِي، وَيَقُولُ: «رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ؟ رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ؟ وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ» . فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا انْكَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک دن سورج گرہن ہوا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور نماز شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی دیر قیام فرمایا کہ گویا رکوع کرنے کا ارادہ ہی نہیں، اور پھر رکوع اتنا لمبا کیا کہ گویا اس سے اٹھنے کا ارادہ ہی نہیں، پھر سر مبارک اٹھایا تو قومہ میں بھی اتنی دیر کھڑے رہے کہ قریب نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو قریب نہیں تھا کہ سجدہ سے سر مبارک اٹھائیں، پھر آپ نے سجدہ سے سر مبارک اٹھایا تو اتنا طویل جلسہ کیا کہ قریب نہیں تھا کہ آپ دوسرا سجدہ کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا سجدہ بھی اتنا طویل کیا کہ قریب نہیں تھا کہ آپ سجدہ سے سر مبارک اٹھائیں۔ آپ اس دوران آہیں بھرتے اور روتے رہے اور فرماتے: اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ جب میں ان میں موجود ہوں تو ان کو عذاب نہیں کرے گا؟، اے میرے پروردگار کیا تو نے وعدہ نہیں کیا کہ جب تک یہ تجھ سے استغفار کرتے رہیں گے تو ان کو عذاب نہیں دے گا اور ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا، آپ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: یقیناً سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے انہیں گرہن نہیں لگتا جب یہ گہنا جائیں تو فوراً اللہ تعالیٰ عزوجل کی یاد کی طرف دوڑو۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى بكاء رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 323]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏حسن» ‏‏‏‏ }:
«سنن ابي داود (1194)، سنن النسائي (1483)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن