🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے سر مبارک کو تیل لگاتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ هُوَ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ دَهْنَ رَأْسِهِ وَتَسْرِيحَ لِحْيَتِهِ، وَيُكْثِرُ الْقِنَاعَ حَتَّى كَأَنَّ ثَوْبَهُ ثَوْبُ زَيَّاتٍ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے سر مبارک کو تیل لگاتے تھے اور اپنی داڑھی مبارک کو کنگھی کرتے، اور اکثر سر مبارک پر جو کپڑا رکھتے تو آپ کا کپڑا اس طرح تیل والا ہو جاتا جیسے تیل والے کے کپڑے ہوتے ہیں۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء في ترجل رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«‏‏‏‏شرح السنة للبغوي (‏‏‏‏82/12 ح 3164) من طريق الترمذي به، شعب الايمان للبيهقي (‏‏‏‏نسخة محققة: 6045، 6044)»
اس روایت کی سند یزید بن ابان الرقاشی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
◈ ہیثمی نے کہا: «ضعفه الجمهور» اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [ ‏‏‏‏ مجمع الزوائد 226/6 ]
حافظ ابن حجر نے کہا: «زاھد ضعیف» [ ‏‏‏‏تقريب التهذيب: 7683 ]
حافظ ذہبی نے کہا: «ضعيف» [ ‏‏‏‏ الكاشف 240/3 ت 6389]
شعب الایمان للبیہقی [ ‏‏‏‏6046] میں اس کا ایک شاہد سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن اس کی سند میں ابوبکر محمد بن ہارون بن عیسیٰ الازدی «ليس بالقوي» ہے۔ [ ‏‏‏‏ديكهئيے سوالات الحاكم: 210، قاله الدارقطني ]
اور باقی سند حسن ہے، یعنی یہ سند محمد بن ہارون مذکور کی وجہ سے ضعیف ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
 
Shamail al-Tirmidhi Hadith 33 in Urdu