یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری لمحات میں اپنے ہاتھ تر کر کے چہرۂ انور پر پھیر رہے تھے
حدیث نمبر: 388
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى مُنْكَرَاتِ - أَوْ قَالَ عَلَى سَكَرَاتِ - الْمَوْتِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پر موت کی حالت طاری تھی اور آپ کے پاس ایک پیالہ پڑا ہوا تھا جس میں پانی تھا۔ آپ اپنا دست مبارک پیالہ میں ڈالتے پھر پانی سے چہرہ انور صاف کرتے اور فرماتے: ”اے اللہ! موت کی سختیوں میں“ یا فرمایا ”موت کی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما۔“ [شمائل ترمذي/باب: ما جاء فى وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 388]
تخریج الحدیث: { «سنده حسن» }:
«(سنن ترمذي: 978، وقال: غريب)، سنن ابن ماجه (1623) من حديث الليث بن سعد عن يزيد بن عبدالله بن الحماد به.
وصححه الحاكم والذهبي (465/2، 56/3-57)»
«(سنن ترمذي: 978، وقال: غريب)، سنن ابن ماجه (1623) من حديث الليث بن سعد عن يزيد بن عبدالله بن الحماد به.
وصححه الحاكم والذهبي (465/2، 56/3-57)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن
Shamail al-Tirmidhi Hadith 388 in Urdu