شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر مہندی کا اثر دیکھا گیا
حدیث نمبر: 47
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنِ الْجَهْدَمَةِ، امْرَأَةِ بِشْرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَّةِ، قَالَتْ: «أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يَنْفُضُ رَأْسَهُ وَقَدِ اغْتَسَلَ، وَبِرَأْسِهِ رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ» أَوْ قَالَ: «رَدْغٌ» شَكَّ فِي هَذَا الشَّيْخُ
جہذمہ رضی اللہ عنہا جو کہ بشیر بن الخصاصیہ کی بیوی ہیں، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے نکلتے ہوئے، اپنے سر مبارک کو جھاڑتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں مہندی کا نشان تھا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء في خضاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«معرفة الصحابة لابي نعيم (3290/6 ح 3820)»
یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ نضر بن زرارہ مستور ہے۔ (تقريب التھذيب: 7133)
مستور اس مجہول الحال راوی کو کہتے ہیں، جس کی توثیق کسی قابل اعتماد ذریعے سے ثابت نہیں ہوتی۔
➋ ابوجناب یحییٰ بن ابی حیہ الکلبی ضعیف اور مدلس راوی ہے۔ دیکھئیے: تقریب التہذیب (7537) اور انوار الصحیفہ (ص289)
«معرفة الصحابة لابي نعيم (3290/6 ح 3820)»
یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ نضر بن زرارہ مستور ہے۔ (تقريب التھذيب: 7133)
مستور اس مجہول الحال راوی کو کہتے ہیں، جس کی توثیق کسی قابل اعتماد ذریعے سے ثابت نہیں ہوتی۔
➋ ابوجناب یحییٰ بن ابی حیہ الکلبی ضعیف اور مدلس راوی ہے۔ دیکھئیے: تقریب التہذیب (7537) اور انوار الصحیفہ (ص289)
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
Shamail al-Tirmidhi Hadith 47 in Urdu