صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
The Book of (The Wedlock)
7. بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لأَخِيهِ انْظُرْ أَيَّ زَوْجَتَيَّ شِئْتَ حَتَّى أَنْزِلَ لَكَ عَنْهَا:
7. باب: کسی شخص کا اپنے بھائی سے یہ کہنا کہ تم میری جس بیوی کو بھی پسند کر لو میں اسے تمہارے لیے طلاق دے دوں گا۔
(7) Chapter. The saying of a man to his brother (in Islam): "Have a look at either of my wives (and if you wish), I will divorce her for you."
حدیث نمبر: Q5072
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
رواه عبد الرحمن بن عوف.رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ.
‏‏‏‏ اس کو عبدالرحمٰن بن عوف نے بھی روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر: 5072
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن كثير، عن سفيان، عن حميد الطويل، قال: سمعت انس بن مالك، قال: قدم عبد الرحمن بن عوف فآخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الانصاري، وعند الانصاري امراتان، فعرض عليه ان يناصفه اهله وماله، فقال: بارك الله لك في اهلك ومالك، دلوني على السوق، فاتى السوق فربح شيئا من اقط وشيئا من سمن، فرآه النبي صلى الله عليه وسلم بعد ايام وعليه وضر من صفرة، فقال:" مهيم يا عبد الرحمن، فقال: تزوجت انصارية، قال: فما سقت إليها، قال: وزن نواة من ذهب، قال: اولم ولو بشاة".(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، وَعِنْدَ الْأَنْصَارِيِّ امْرَأَتَانِ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَأَتَى السُّوقَ فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: تَزَوَّجْتُ أَنْصَارِيَّةً، قَالَ: فَمَا سُقْتَ إِلَيْهَا، قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے حمید طویل نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (ہجرت کر کے مدینہ) آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دو بیویاں تھیں۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے اہل (بیوی) اور مال میں سے آدھے لیں۔ اس پر عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت دے، مجھے تو بازار کا راستہ بتا دو۔ چنانچہ آپ بازار آئے اور یہاں آپ نے کچھ پنیر اور کچھ گھی کی تجارت کی اور نفع کمایا۔ چند دنوں کے بعد ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبدالرحمٰن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔

Narrated Anas bin Malik: `Abdur-Rahman bin `Auf came (from Mecca to Medina) and the Prophet made a bond of brotherhood between him and Sa`d bin Ar-Rabi` Al-Ansari. Al-Ansari had two wives, so he suggested that `Abdur- Rahman take half, his wives and property. `Abdur-Rahman replied, "May Allah bless you with your wives and property. Kindly show me the market." So `Abdur-Rahman went to the market and gained (in bargains) some dried yoghurt and some butter. After a few days the Prophet saw `Abdur-Rahman with some yellow stains on his clothes and asked him, "What is that, O `Abdur-Rahman?" He replied, "I had married an Ansari woman." The Prophet asked, "How much Mahr did you give her?" He replied, "The weight of one (date) stone of gold." The Prophet said, "Offer a banquet, even with one sheep."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 62, Number 10


   صحيح البخاري5148أنس بن مالكتزوج امرأة على وزن نواة فرأى النبي بشاشة العرس فسأله فقال إني تزوجت امرأة على وزن نواة
   صحيح البخاري5155أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري5072أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري3937أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري6082أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري5168أنس بن مالكأولم على زينب أولم بشاة
   صحيح البخاري5153أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري5171أنس بن مالكأولم عليها أولم بشاة
   صحيح البخاري6386أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   صحيح البخاري5167أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح البخاري2049أنس بن مالكأقاسمك مالي نصفين وأزوجك قال بارك الله لك في أهلك ومالك دلوني على السوق فما رجع حتى استفضل أقطا وسمنا فأتى به أهل منزله فمكثنا يسيرا أو ما شاء الله فجاء وعليه وضر من صفرة فقال له النبي مهيم قال يا رسول الله تزوجت امرأة من الأنصار قال
   صحيح مسلم3491أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح مسلم3490أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   صحيح مسلم3492أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   صحيح مسلم3494أنس بن مالككم أصدقتها فقلت نواة
   جامع الترمذي1933أنس بن مالكمهيم قال تزوجت امرأة من الأنصار قال فما أصدقتها قال وزن نواة من ذهب فقال أولم ولو بشاة
   جامع الترمذي1094أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   سنن أبي داود2109أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن أبي داود3743أنس بن مالكأولم على أحد من نسائه ما أولم عليها أولم بشاة
   سنن النسائى الصغرى3390أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن النسائى الصغرى3376أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن النسائى الصغرى3354أنس بن مالككم أصدقتها قال زنة نواة من ذهب
   سنن النسائى الصغرى3375أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن النسائى الصغرى3374أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   سنن النسائى الصغرى3353أنس بن مالكأولم ولو بشاة
   سنن ابن ماجه1907أنس بن مالكبارك الله لك أولم ولو بشاة
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم362أنس بن مالكاولم ولو بشاة
   بلوغ المرام892أنس بن مالك‏‏‏‏فبارك الله لك،‏‏‏‏ اولم ولو بشاة
   مسندالحميدي1252أنس بن مالكعلى كم تزوجتها؟

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 362  
´شادی پر حسب استطاعت ولیمہ کرنا مسنون ہے`
«. . . فقال: زنة نواة من ذهب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اولم ولو بشاة . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 362]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 5153، من حديث مالك به، ورواه مسلم 81/1427، من حديث حميد الطّويل به وصرّح حميد بالسماع عند البخاري 5072]

تفقه:
➊ شادی پر حسب استطاعت ولیمہ کرنا مسنون ہے۔
➋ افضل یہی ہے کہ نکاح یا شادی کے وقت ہی حق مہر ادا کر دیا جائے۔
➌ اپنی قوم سے باہر دوسری قوم میں شادی کرنا جائز ہے۔ دیکھئے: [تفقه نمبر: 5]
➍ حق مہر زیادہ بھی ہو سکتا ہے اور کم بھی، اس میں کوئی خاص مقدار ثابت نہیں ہے۔ تاہم اس میں بہت زیادہ اسراف اور غلو نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا۔ دیکھئے: [سنن ابي داؤد 2106، ومسند امام أحمد 1/48 ح340 وهو حسن]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خير النكاح أيسره» بہترین نکاح وہ ہے جو آسان ہو۔ [صحيح ابن حبان، الاحسان: 4060 دوسرا نسخه 4072 وسنده صحيح، سنن ابي داؤد: 2117، وصححه الحاكم 2/181، 182، عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي]
➎ اپنے قبیلے میں اور قبیلے سے باہر دونوں طرح شادی کرنا بالکل صحیح اور جائز ہے۔
➏ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
➐ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں مروجہ بارات کا کوئی تصور نہیں ہے، وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ صحابہ اپنی محبوب ترین شخصیت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بارات کے ساتھ لے کر نہ جاتے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 150   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1907  
´ولیمہ کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے جسم) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بارك الله لك أولم ولو بشاة» اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1907]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
ارشاد نبوی ہے:
مردوں کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ غیر واضح ہو۔
اور عورتٔ کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک غیر واضح ہو۔ (جامع الترمذي، الأدب، باب ماجاء فی طیب الرجال والنساء، حدیث: 2787)

(2)
رسول اللہ ﷺ نے صحابی کے لباس میں عورتوں کی خوشبو کا نشان دیکھا اس لیے دریافت کیا کہ تم نے عورتوں کی خوشبو کیوں لگا رکھی ہے؟ اس میں ایک لطیف انداز سے تنبیہ بھی ہے کہ اس کا استعمال تمہارے لیے مناسب نہیں۔
اور یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر کوئی معقول عذر ہے تو بیان کرو۔

(3)
کسی میں غلطی دیکھ کر فوراً سختی کرنا درست نہیں بلکہ غلطی کرنے والے سے اس کی وجہ دریافت کرنی چاہیے تاکہ اسے اتنی ہی تنبیہ کی جائے جتنی ضروری ہے۔

(4)
گٹھلی سے مراد کجھور کی گٹھلی ہے۔
یہ اس دور کا ایک معروف وزن تھا۔
جس کی مقدار پانچ درہم (تقریبا ڈیڑھ تولہ)
ذکر کی گئی ہے۔ (مرقاۃ شرح مشکاۃ، النکاح، باب الولیمة، حدیث: 3210)

(5)
ارشاد نبوی اگرچہ ایک بکری ہو۔
میں اشارہ ہے کہ ان میں زیادہ کی استطاعت تھی اس سے معلوم ہوا کہ ولیمے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی گنجائش کے مطابق جس قدر اہتمام آسانی سے اور زیر بار ہوئے بغیر ہو سکے وہ کافی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1907   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1094  
´ولیمہ کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے جسم پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے ایک عورت سے کھجور کی ایک گٹھلی سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت عطا کرے، ولیمہ ۱؎ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1094]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎: (أولم ولو بشأة) میں لو تقلیل کے لیے آیا ہے یعنی کم ازکم ایک بکری ذبح کرو،
لیکن نبی اکرمﷺ نے صفیہ کے ولیمہ میں صرف ستواورکجھورپر اکتفاکیا،
اس لیے مستحب یہ ہے کہ ولیمہ شوہر کی مالی حیثیت کے حسب حال ہو،
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حالت کے پیش نظرایک بکری کا ولیمہ کم تھا اسی لیے آپﷺ نے اُن سے أَولِم وَلَو بِشَأة فرمایا۔

2؎:
شادی بیاہ کے موقع پر جو کھانا کھلایا جاتا ہے اسے ولیمہ کہتے ہیں،
یہ ولم (واؤکے فتحہ اورلام کے سکون کے ساتھ) سے مشتق ہے جس کے معنی اکٹھا اور جمع ہونے کے ہیں،
چونکہ میاں بیوی اکٹھا ہوتے ہیں اس لیے اس کو ولیمہ کہتے ہیں،
ولیمہ کا صحیح وقت خلوت صحیحہ کے بعد ہے جمہور کے نزدیک ولیمہ سنت ہے اوربعض نے اسے واجب کہا ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1094   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2109  
´مہر کم رکھنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: اسے کتنا مہر دیا ہے؟ جواب دیا: گٹھلی (نواۃ ۱؎) کے برابر سونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2109]
فوائد ومسائل:
1: انسان کو اپنی اسطاعت کے مطابق حق مہر باندھنا چاہیے جو لینا دینا آسان ہو۔

2: زعفران اور دیگر رنگدار چیزیں (پاوڈر) مردوں کو استعمال کر نا جائز نہیں۔

3: شادی یا غمی کے موقع پر بھی قریب وبعید کے عزیزواقارب کو بلا کسی اہم مقصد کے جمع کرنا کوئی سنت نہیں ہے ایک چھوٹی سی بستی میں رہتے ہوئے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی شادی ہوئی اور رسول ﷺکو خبر نہیں دی گئی۔

4: اصل سنت ولیمہ ہے حسب استطاعت جو میسر آئے بکری ہو یا کم و پیش کچھ اور جیسے کہ رسول ﷺنے سیدہ صفیہ رضی اللہ کے ولیمہ میں ستو ہی پیش فرمائے تھے۔

5: اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ہماری شادیاں، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
مثلا لمبی چوڑی براتیں اور پھر ان کی پر تکلف ضیافت۔
اسی طرح ولیمے میں انواع واقسام کے کھانوں کی بھر مار اور دیگر رسومات اس اسراف وتبذیر اور فضولیات کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
(تفصیل کے لیےدیکھیں مسنون نکاح اور شادی بیاں کی رسومات، مطبوعہ دار السلام تالیف.. حافظ صلاح الدین یوسف صاحب)
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2109   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5072  
5072. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عبدالرحمن بن عوف ؓ (مدینہ طیبہ) آئے تو نبی ﷺ نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع انصاری ؓ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا۔ انصاری کی دو بیویاں تھیں۔ انہوں نے بیویوں میں سے ایک اور مال میں نصف دینے کی انہیں پیش کش کی۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ نے فرمایا: اللہ تعالٰی تمہارے اہل و عیال اور مال و متاع میں برکت فرمائے! آپ مجھے بازار کا راستہ بتا دیں، چنانچہ وہ بازار گئے اور وہاں سے کچھ گھی اور کچھ پنیر کی خرید ق فروخت کی اور نفع حاصل کیا۔ نبی ﷺ نے چند دنوں کے بعد سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ کو دیکھا کو ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: عبدالرحمن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کرلی ہے۔ آپ نے پوچھا: ا سے مہر میں کیا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: گھٹلی بھر سونا۔ آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5072]
حدیث حاشیہ:
ولیمہ سنت نبوی ہے جو عورت سے ملاپ کے بعد کیا جانا چاہئے مگر افسوس کہ آج کل مسلمانوں نے عام طور پر إلا ماشاءاللہ اسے بھی ترک کر دیا ہے۔
زردی لگنے کی وجہ یہ تھی کہ عورتوں کی خوشبو میں زعفران پڑتا تھا اس وجہ سے وہ رنگ دارہوا کرتی تھی۔
چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مردوں کی خوشبو میں رنگ نہ ہو عورتوں کی خوشبو میں تیز بو نہ ہو۔
اسی لئے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بعد نکاح جب دلہن سے اختلاط کیا تو زوجہ کی تازہ خوشبو کہیں ان کے کپڑے میں لگ گئی۔
یہ نہیں کہ قصداً زعفران لگا یا ہو جس سے مردوں کے حق میں نہیں آئی ہے اور دولہا کو کیسری لباس پہنانے کا دستور جو بعض بت پرست اقوام میں ہے اس کا عرب میں نام و نشان بھی نہ تھا۔
پس یہ وہی زعفرانی رنگ تھا جو دلہن کے کپڑوں سے ان کے کپڑوں میں لگ گیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو ولیمہ کرنے کا حکم فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ دولہا کو ولیمہ کی دعوت کرنا سنت ہے، مگرصد افسوس کہ بیشتر مسلمانوں سے یہ سنت بھی متروک ہوتی جا رہی ہے اور بیاہ شادی میں قسم قسم کی شرکیہ بدعیہ شکلیں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
اللہ پاک مسلمانوں کو اپنے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور ہماری لغزشوں کو معاف کرے۔
آمین۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 5072   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5072  
5072. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عبدالرحمن بن عوف ؓ (مدینہ طیبہ) آئے تو نبی ﷺ نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع انصاری ؓ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا۔ انصاری کی دو بیویاں تھیں۔ انہوں نے بیویوں میں سے ایک اور مال میں نصف دینے کی انہیں پیش کش کی۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ نے فرمایا: اللہ تعالٰی تمہارے اہل و عیال اور مال و متاع میں برکت فرمائے! آپ مجھے بازار کا راستہ بتا دیں، چنانچہ وہ بازار گئے اور وہاں سے کچھ گھی اور کچھ پنیر کی خرید ق فروخت کی اور نفع حاصل کیا۔ نبی ﷺ نے چند دنوں کے بعد سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ کو دیکھا کو ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: عبدالرحمن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کرلی ہے۔ آپ نے پوچھا: ا سے مہر میں کیا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: گھٹلی بھر سونا۔ آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5072]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ انصار میں کس قدر ایثار وہمدردی کے جذبات تھے! انھوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنی بیویوں تک کی پیش کش کر دی کہ جو بیوی تمھیں پسند ہو میں اسے طلاق دیتا ہوں، عدت ختم ہونے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں۔
لیکن مہاجرین کی خود داری اور عزت نفس بھی قابل تعریف ہے کہ انھوں نے اس پیش کش کی طرف کوئی توجہ نہ دی بلکہ بازار کا راستہ اختیار کیا تاکہ محنت مزدوری کر کے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے نکاح کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
واضح رہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو زردی لگنے کی وجہ یہ تھی کہ عورتوں کی خوشبو میں زعفران ہوتا تھا، اس بنا پر عورتوں کی خوشبو رنگدار ہوتی تھی۔
بیوی کے اختلاط سے تازہ خوشبو ان کے کپڑوں کو لگ گئی، انھوں نے جان بوجھ کر زعفرانی رنگ استعمال نہیں کیا تھا۔
والله اعلم
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 5072   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.