صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
34. باب فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
34. باب: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 6391
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني بشر بن خالد ، اخبرنا محمد يعني ابن جعفر ، عن شعبة ، عن سليمان ، عن ابي الضحى ، عن مسروق ، قال: " دخلت على عائشة وعندها حسان بن ثابت، ينشدها شعرا يشبب بابيات له، فقال: حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل فقالت له عائشة : لكنك لست كذلك، قال مسروق: فقلت لها: لم تاذنين له يدخل عليك وقد، قال الله: والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم سورة النور آية 11، فقالت: فاي عذاب اشد من العمى؟ إنه كان ينافح او عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ، فَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ، قَالَ مَسْرُوقٌ: فَقُلْتُ لَهَا: لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ، قَالَ اللَّهُ: وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النور آية 11، فَقَالَتْ: فَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى؟ إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ أَوْ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انھوں نے سلیمان سے، انھوں نے ابو ضحیٰ سے، انھوں نے مسروق سے روایت کی کہا: کہ میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو ان کے پاس سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بیٹھے اپنی غزل میں سے ایک شعر سنا رہے تھے جو چند بیتوں کی انہوں نے کہی تھی۔ وہ شعر یہ ہے کہ: پاک ہیں اور عقل والی ان پہ کچھ تہمت نہیں۔ صبح کو اٹھتی ہیں بھوکی غافلوں کے گوشت سے (یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتیں کیونکہ غیبت کرنا گویا اس کا گوشت کھانا ہے)۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لیکن تو ایسا نہیں ہے (یعنی تو لوگوں کی غیبت کرتا ہے)۔ مسروق نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ حسان رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس کیوں آنے دیتی ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شان میں فرمایا ہے کہ وہ شخص جس نے ان میں سے بڑی بات (یعنی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے) کا بیڑا اٹھایا اس کے واسطے بڑا عذاب ہے۔ (حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شریک تھے جنہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حد لگائی) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس سے زیادہ عذاب کیا ہو گا کہ وہ نابینا ہو گیا ہے اور کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کی جوابدہی کرتا تھا یا ہجو کرتا تھا۔ (اس لئے اس کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتی ہوں)۔
امام مسروق رحمۃ ا للہ علیہ بیان کرتے ہیں،میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے پاس حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں اپنا شعر سنارہے تھے،اپنے شعروں کےآغاز میں انہوں نے شعر کہا،پاکدامن،عقلمند اورمتین ہیں،ان پر کسی عیب کی الزام تراشی نہیں کی جاسکتی،وہ غافل عورتوں کی گوشت خوری سے بھوکی رہتی ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں کہا،لیکن آپ تو ایسے نہیں ہیں،(غیبت کرتے ہیں) مسروق کہتے ہیں،میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا،آپ اسے اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں؟حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے،ان میں سے جس نے اس میں(افک میں) زیادہ حصہ لیا،اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا،اندھے ہونے سے بڑھ کرعذاب کون سا ہے؟یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے تھے،یا آپ کی طرف سے کافروں کی ہجوکرتے تھے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2488
   صحيح البخاري4756عائشة بنت عبد اللهدخل حسان بن ثابت على عائشة فشبب وقال حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل قالت لست كذاك قلت تدعين مثل هذا يدخل عليك وقد أنزل الله والذي تولى كبره منهم
   صحيح البخاري4146عائشة بنت عبد اللهدخلنا على عائشة ا وعندها حسان بن ثابت ينشدها شعرا يشبب بأبيات له وقال حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل فقالت له عائشة لكنك لست كذلك قال مسروق فقلت لها لم تأذنين له أن يدخل عليك وقد قال الله والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم
   صحيح مسلم6391عائشة بنت عبد اللهدخلت على عائشة وعندها حسان بن ثابت ينشدها شعرا يشبب بأبيات له فقال حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل فقالت له عائشة لكنك لست كذلك قال مسروق فقلت لها لم تأذنين له يدخل عليك وقد قال الله والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6391  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
يشبب:
عورت کے محاسن اور کمالات سے اشعار کا آغاز کرنا۔
(2)
حصان:
عفیفہ اور پاکدامن ہیں،
نظربد سے محفوظ ہیں۔
(3)
ازان:
عقلمند اور باوقار ہیں۔
(4)
ماتزن:
الزام تراشی نہیں کی جا سکتی۔
(5)
ريبة:
بے حیائی،
بدکاری،
شک و شبہ۔
(6)
تصبح غرثي:
غرث،
بھوک،
پیٹ کا خالی ہونا،
یعنی وہ پاکدامن عورتوں کی غیبت نہیں کرتی۔
(7)
لكنك لست كذالك:
لیکن تو تو ایسا نہیں ہے تو نے تو میری غیبت کی ہے اور مجھ پر الزام تراشی میں حصہ لیا ہے اور دعویٰ یہ کرتے ہیں،
ان پر الزام تراشی نہیں ہو سکتی،
لیکن حضرت حسان رضی اللہ عنہ،
اس الزام تراشی سے انکار کرتے تھے کہ میں نے آپ پر بہتان نہیں باندھا،
لوگوں نے خواہ مخواہ مجھے اس میں ملوث کر دیا ہے اور اس کو شہرت دی ہے،
حضرت عائشہ کی مدح میں جو اشعار کہے تھے،
ان میں یہ بھی ہیں،
فان كنت قدقلت الذي زعمو الكم،
فلارفعت سوطي الي اناملي،
،
اگر وہ بات میں نے کہی ہے،
جو آپ کو بتائی گئی ہے تو میری ہاتھ کی انگلیاں،
مجھے میرا کوڑا نہ پکڑا سکیں۔
(8)
وكيف وودي ماجبيت ونصرتي،
لآل رسول الله زين المحافل:
میں یہ کیونکہ کہہ سکتا ہوں،
جبکہ میری موت اور میری نصرت تا حیات،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لیے ہے،
جو مجالس کی زینت ہے۔
(9)
فان الذي قد قيل ليس بلائط،
ولكنه قول امري،
بي ماحل:
کیونکہ جو کچھ کہا گیا ہے،
وہ ان سے چپکنے والا یا ان پر چسپاں ہونے والا نہیں ہے،
لیکن وہ ایسے آدمی کا قوم ہے،
جو میری چغلی کھانے والا ہے۔
ان اشعار سے محسوس ہوتا ہے کہ حضرت حسان نے الزام تراشی میں حصہ نہیں لیا،
لیکن ان کو اس میں ملوث کیا گیا ہے۔
(10)
وقدقال الله والذي تولي كبره:
واقعہ افک کو ہوا دینے والا اور اسے گھڑنے والا،
عبداللہ بن ابی بن سلول منافق تھا اور حضرت مسروق کے خیال میں،
حضرت حسان نے اس کی تکذیب نہیں کی،
بلکہ تصدیق کی،
اس لیے وہ بھی اس آیت کا مصداق ٹھہرے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے:
۔
(المنافق عبدالله بن ابي وهوالذي كان يستوشيه يجمعه وهوالذي تولي كبرة) (بخاری شریف،
حدیث نمبر 4757)

"عبداللہ بن ابی منافق ہی اس کی کرید کرتا تھا اور اس کو جمع کرتا تھا اور اس نے ہی سب سے بڑھ کر حصہ لیا اور اس کا بڑا حصے دار ہے۔
"چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مشہور قول سے متاثر تھیں،
اس لیے انہوں نے حضرت حسان کی بینائی ختم ہونے کو،
اس واقعہ کی سزا قرار دیا،
لیکن علامہ ابن اثیر جذری کے اسد الغابہ ج2،
ص 76 پر لکھا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آخر میں حضرت حسان کی بات تسلیم کر لی تھی اور ان کو تہمت لگانے سے بری قرار دیا تھا۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 6391   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.