الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: جہاد کے مسائل
Jihad (Kitab Al-Jihad)
120. باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْمُثْلَةِ
120. باب: مثلہ (ناک، کان کاٹنے) کی ممانعت کا بیان۔
Chapter: Regarding The Prohibtion Of Mutilation.
حدیث نمبر: 2667
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن الحسن، عن الهياج بن عمران، ان عمران ابق له غلام، فجعل لله عليه لئن قدر عليه ليقطعن يده، فارسلني لاسال له، فاتيت سمرة بن جندب فسالته، فقال: كان نبي الله صلى الله عليه وسلم يحثنا على الصدقة وينهانا عن المثلة، فاتيت عمران بن حصين فسالته فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحثنا على الصدقة وينهانا عن المثلة.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْهَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ، أَنَّ عِمْرَانَ أَبَقَ لَهُ غُلَامٌ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَأَرْسَلَنِي لِأَسْأَلَ لَهُ، فَأَتَيْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ، فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ.
ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ عمران (یعنی: ہیاج کے والد) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ۱؎ سے روکتے تھے، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے (بھی) پوچھا: تو انہوں نے (بھی) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4637، 10867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/428، 429)، سنن الدارمی/الزکاة 24 (1697) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ہیاج لین الحدیث ہیں)

وضاحت:
۱؎: مقتول کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل و صورت کو بگاڑ دینے کو مثلہ کہا جاتا ہے، مثلہ کا عمل درست نہیں ہے البتہ اگر کسی کافر نے کسی مقتول مسلم کا مثلہ کیا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کا مثلہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کے ساتھ کیا تھا، اسی طرح اگر کسی مسلمان نے کسی مسلمان کے ساتھ مثلہ کیا ہے تو بطور قصاص اس کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جا سکتا ہے۔

Narrated Samurah ibn Jundub: Al-Hayyaj ibn Imran ibn Husayn reported that a slave of Imran ran away. He took a vow to Allah that if he overpowers him, he will cut off his head. He then sent me (to Samurah ibn Jundub) to ask him about this question for him. I came to Samurah ibn Jundub and asked him. He said: The Messenger of Allah ﷺ used to exhort us to give alms (sadaqah) and forbid us to mutilate (a slain). I then came to Imran ibn Husayn and asked him. He said: The Messenger of Allah ﷺ used to exhort us to give alms (sadaqah) and forbid us to mutilate (a slain).
USC-MSA web (English) Reference: Book 14 , Number 2661


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
وحديث أحمد (5/ 20) يغني عن ھذا الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97
   سنن أبي داود2667يحثنا على الصدقة ينهانا عن المثلة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2667  
´مثلہ (ناک، کان کاٹنے) کی ممانعت کا بیان۔`
ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ عمران (یعنی: ہیاج کے والد) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ۱؎ سے روکتے تھے، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے (بھی) پوچھا: تو انہوں نے (بھی) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2667]
فوائد ومسائل:
مقتول کو قتل کرنے کے بعد اس کے اعضاء کاٹنا یا اس کی شکل بگاڑنا ناجائز ہے۔
اور ایسے ہی قتل سے پہلے بھی یہ عمل ناجائز ہے۔
الا یہ کہ قصاص کی کوئی صورت ہو۔
جیسے قبیلہ عکل وعرینہ کے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2667   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.