صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: غزوات کے بیان میں
The Book of Al- Maghazi
36. بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ:
36. باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
(36) Chapter. The Ghazwa of Al- Hudaibiya.
حدیث نمبر: 4170
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثني احمد بن إشكاب , حدثنا محمد بن فضيل , عن العلاء بن المسيب , عن ابيه , قال: لقيت البراء بن عازب رضي الله عنهما , فقلت: طوبى لك صحبت النبي صلى الله عليه وسلم وبايعته تحت الشجرة , فقال: يا ابن اخي إنك لا تدري ما احدثنا بعده".حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقُلْتُ: طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ".
مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے علاء بن مسیب نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نصیب ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شجر (درخت) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔

Narrated Al-Musaiyab: I met Al-Bara bin `Azib and said (to him). "May you live prosperously! You enjoyed the company of the Prophet and gave him the Pledge of allegiance (of Al-Hudaibiya) under the Tree." On that, Al- Bara' said, "O my nephew! You do not know what we have done after him (i.e. his death).
USC-MSA web (English) Reference: Volume 5, Book 59, Number 488

   صحيح البخاري4170براء بن عازبصحبت النبي وبايعته تحت الشجرة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4170  
4170. حضرت مسیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت براء بن عازب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: آپ کو مبارک ہو! آپ نے نبی ﷺ کی صحبت اختیار کی اور تمہیں درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت رضوان کا موقع ملا۔ انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! تم نہیں جانتے کہ ہم نے آپ ﷺ کے بعد کیا کیا کام کیے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4170]
حدیث حاشیہ:
بیعت رضوان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کا پروانہ عطا فرمایا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
بے شک اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے۔
(الفتح: 17/48)
اس کے باوجود یہ حضرات تواضع اور کسرنفسی کے طورپر فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ہم لوگ فتنوں میں مبتلا ہوگئے۔
ممکن ہے کہ حضرت عمر ؓ کی شہادت کے بعد جو اختلاف رونما ہوئے، ان کی طرف اشارہ مقصود ہو۔
بہرحال یہ حضرات خوشخبری کے باوجود اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 4170   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.